تحفظ حقوق اطفال کے زیر اہتمام تمباکو نوشی کی روک تھام اور مصنوعات کی سادہ پیکیجنگ سے متعلق آن لائن سیشن

جمعہ جولائی 17:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 جولائی2020ء) غیر سرکاری تنظیم تحفظ حقوق اطفال (سپارک) کے زیر اہتمام تمباکو نوشی کی روک تھام اور مصنوعات کی سادہ پیکیجنگ سے متعلق آن لائن سیشن منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر تمباکو کی روک تھام پر کام کرنے والے کارکنان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات کی سادہ پیکیجنگ یعنی بغیر کسی نام اور ڈیزائن کے پیکٹس پرغور کرے تاکہ تمباکو کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔

کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز کے پاکستان میں نمائندہ ملک عمران احمد نے کہا کہ 16 ممالک نے تمباکو کے سادہ پیکیجنگ قوانین کو اپنایا ہے اور بہت سی دوسری حکومتیں اس پالیسی پر باضابطہ طور پر غور کرنے کے عمل میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو کمپنیوں نے متعدد ممالک میں پالیسی سازی کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے اور سادہ پیکیجنگ کی سخت مخالفت کی ہے تاہم آج تک تمباکو کی صنعت بین الاقوامی اور قومی عدالتوں میں سادہ پیکیجنگ کے خلاف ہر قانونی جنگ ہاری ہے۔

(جاری ہے)

سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سجاد احمد چیمہ نے بتایا کہ گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (جی اے ٹی ایس) 2015ء کے مطابق تقریباً 1200 پاکستانی بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے سپارک، ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (ایچ ڈی ایف) اور پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ ) کے ذریعہ کرائی گئی 2018ء کی ریسرچ ’’بگ ٹوبیکو، ٹائنی ٹارگٹس‘‘ کا بھی حوالہ دیا۔

اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو کمپنیاں نوجوانوں کو نشانہ بنانے کیلئے پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے آس پاس اپنی مصنوعات کی پرکشش انداز میں تشیر کر رہی ہیں جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔اس موقع پر پراجیکٹ منیجر سپارک خلیل احمد نے دنیا بھر سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ذریعہ اکٹھا کئے گئے شواہد کے مطابق سادہ پیکیجنگ کے فوائد بیان کئے۔ انہوں نے بتایا کہ سادہ پیکیجنگ تمباکو کی مصنوعات کی طرف توجہ کم کرکے نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال کو کم کرتا ہے۔

متعلقہ عنوان :