یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن دو سال میں خسارے سے نکل کرسب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا ادارہ بن گیا

ادارے نے جولائی 2019ء سے مئی 2020ء تک 7.09 بلین روپے ٹیکس ادا کیا

جمعرات اگست 13:25

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن دو سال میں خسارے سے نکل کرسب سے زیادہ ٹیکس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اگست2020ء) یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان اپنی کارکردگی اور حکومتی سرپرستی سے دو سال کے قلیل عرصے میں خسارے سے نکل کر پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکس ادا کرنے والا ادارہ بن گیا ہے، سال2017-18ء میں ادار ے کی 5.46 بلین کی انونٹری تھی جبکہ مئی 2020ء تک یوٹیلٹی سٹورز کی انونٹری 15 بلین روپے کی مالیت کی ہے۔

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے حکام کے مطابق سال2017-18ء میں ادارہ کو 6.634 بلین روپے کے خسارے کا سامنا تھا۔ سال 2018-19ء میں ادارے کے ذمہ وینڈرز کی10.283 بلین روپے واجب الادا تھے جبکہ جون2020ء تک ادارے کے ذمے وینڈرز کے 3.491 بلین روپے واجب الادا ہیں۔ ادارے کی استعداد کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے 8 جنوری 2020ء کو پرائم منسٹرز ریلیف پیکج کا اجرا کیا۔

(جاری ہے)

اس ریلیف پیکج کے تحت ادارے کو اشیائے خوردونوش کی خریداری کے لیے پانچ ارب روپے جبکہ ایک ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تاکہ عوام الناس کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

پرائم منسٹر ریلیف پیکج کے پہلے فیز میں17 اپریل 2020ء تک پانچ بنیادی اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دی گئی۔ رمضان المبارک میں پرائم منسٹر ریلیف پیکج کے دائرہ کارکو بڑھا کر پانچ بنیادی اشیائے ضروریہ سمیت 19 اشیاء پر عوام کو رمضان ریلیف پیکج کے تحت سبسڈی دی گئی۔ ماہ مبارک میں ادارے نے 22 ارب روپے کی ریکارڈ سیل کی۔ حکومتی سرپرستی کی وجہ سے ادارے کی سیلز 300 ملین روپے سے بڑھ کر 6 ارب روپے تک ہوگئی اور ادارے کے ذمہ واجب الادا قرضوں میں بھی بتدریج کمی آنا شروع ہو گئی۔

گزشتہ چھ ماہ میں ادارے نے 29.8 ملین گھرانوں کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ مالی سال2018-19ء میں ادارے کی کل سیل 9 ارب روپے تھی جبکہ مالی سال2019-20ء میں ادارے نے 50.832 بلین روپے کی سیل کی ہے۔ جولائی 2019ء سے مئی 2020ء تک ادارے نی7.09 بلین روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔