سگریٹ نوش طلبا کو سرکاری و نجی کالجز میں داخلہ نہ دینے کا فیصلہ

فرسٹ ائیر میں داخلہ لینے کے لیے ہیلتھ پروفارما مکمل کروانا لازمی ہوگا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ اگست 16:24

سگریٹ نوش طلبا کو سرکاری و نجی کالجز میں داخلہ نہ دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اگست2020ء) سگریٹ نوش طلبا کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔سگریٹ نوش طلبا کو سرکاری و نجی کالجز میں داخلہ نہ دینے فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سگریٹ نوش طلبا کو سرکاری و نجی کالجز میں داخلہ نہ دینے کا اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔فرسٹ ائیر میں طالب علم کو کسی بھی سرکاری و نجی کالج میں داخلہ نہیں ملے گا۔فرسٹ ائیر میں داخلہ لینے کے لیے ہیلتھ پروفارما مکمل کروانا لازمی ہوگا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جاری شارٹ فیصلے کی روشنی میں کنسلٹنٹ انسداد منشیات مہم سید ذوالفقار حسین کی درخواست پر ڈی پی آئی کالجز لاہور نے سمری پر دستخط کر کے اسے محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کو ارسال کر دیا ہے جس میں سگریٹ نوشی سمیت گٹکا اور دیگر نشہ کرنے والوں کو کالج میں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

امید کی جا رہی ہے کہ رواں سال فرسٹ ائیر کے داخلوں کو لازمی قرار دیا جائے گا۔

طالب علم کو پروفارما میں جنرل ہیلتھ پروفائل کو مکمل کرنے کے لیے کالج کا نام مکمل ڈیٹا کے ساتھ پر کرنا ہو گا۔تین صفحات پر مشتمل اس پروفارما میں پارٹ اے،بی،سی ، ڈی اور اے کے ساتھ فیملی فزیشن کے ساتھ سائیکاٹرسٹ طالب علم کو چیک کر کے ا س کے نشہ کرنے یا نہ کرنے کی تصدیق کر کے اپنی مہر ثبت کرے گا۔اگر ماہر نفسیات کو طالب علم کے فزیکل چیک اپ کے دوران کوئی شگ گزار تو وہ فوری طور پر اس کے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کروانے کا مجاز ہو گا۔

ذرائع کے مطابق کالجز میں اس قانون کے لاگو ہونے کے بعد سرکاری و نجی یونیورسٹیوں میں بھی اس قانون پر ومل درآمد کروایا جائے گا۔واضح رہے کہ سکول و کالجز کے طباء میں سگریٹ نوشی کی عادت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے والدین اور اساتذہ بھی پریشانی کا شکار رہتے ہیں اسی تناظر میں یہ اہم فیصلہ دیکھنے میں آیا ہے۔