ماہرین زراعت کی کپاس کی چنائی کے وقت مردوں کو سگریٹ نوشی سے اجتناب کی ہدایت

جمعہ اگست 12:41

فیصل آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اگست2020ء) ماہرین زراعت نے کہاہے کہ کاشتکار کپاس کی چنائی کے بعد ذخیرہ کے وقت نمی کاتناسب 10فیصد سے زیادہ نہ ہونے دیںجبکہ خواتین کپاس کی چنائی کے وقت سر کے بال سوتی کپڑے سے ڈھانپ کررکھیںاور مرد بھی سگریٹ نوشی سے اجتناب کریںتاکہ کپاس کو آلودگی اورکسی بھی قسم کے نقصان سے بچایاجاسکے۔

انہوںنے کہا کہ کپاس پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس سے نہ صرف ملکی ٹیکسٹائل کی صنعت کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے بلکہ اس کی برآمد سے زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے لیکن اگر کپاس آلودہ،ملاوٹ شدہ ہو تو نہ صرف مارکیٹ میں اس کی قیمت کم لگتی ہے بلکہ برآمد نہ ہونے کی وجہ سے ملکی سطح پر نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ اسی ضرورت کے پیش نظر اور ملک میں کپاس کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کیلئے کاشتکاروں کو چاہئے کہ وہ کپاس کی چنائی، ذخیرہ اور ترسیل کے موقع ماہرین زراعت کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی بلکہ ملکی آمدن میں بھی اضافہ کریں۔

انہوںنے کہاکہ اعلیٰ معیار کی کپاس حاصل کرنے کیلئے چنائی اس وقت شروع کی جائے جب 40سے 50فیصد ٹینڈے پوری طرح پک کر کھل جائیں کیونکہ جلدی چنائی کرنے سے غیر معیاری اور کچا ریشہ حاصل ہوتا ہے اور ایسی روئی کی قیمت مقامی اور عالمی منڈی میں کم ہوجاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ چنائی شروع کرنے کا موزوں ترین وقت صبح اس وقت شروع ہوتا ہے جس وقت فصل اور ٹینڈوں پر سے رات کی شبنم خشک ہو جائے تاکہ کپاس بد رنگ نہ ہونے پائے اور نمی کی وجہ سے جننگ کے دوران مشکلات کا سامنا بھی نہ ہو البتہ اوس نہ پڑنے کی صورت میں چنائی صبح جلد شروع کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :