ضلع خیبر میں کھیل کے دوران تکرار پر فائرنگ، 2 فٹبالر جاں بحق، دو زخمی

فائرنگ کا واقعہ جمرود کے علاقے ٹیڈی بازار میں پیش آیا ، ایف آئی آر درج ہو گئی

ہفتہ ستمبر 15:45

ضلع خیبر میں کھیل کے دوران تکرار پر فائرنگ، 2 فٹبالر جاں بحق، دو زخمی
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2020ء) خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں فٹبال میچ میں تکرار کے نتیجے میں ہونے والی فائرنگ سے قومی ٹیم کے فٹبالر سمیت دو کھلاڑی جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ضلع خیبر میں فٹ با گراؤنڈ میں ہار جیت کے معاملے پر شروع ہونے والی تکرار بڑے حادثے کا سبب بن گئی اور اسی تکرار کے نتیجے میں ہونی والی فائرنگ سے 2 نوجوان جان کی بازی ہار گئے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ جمرود کے علاقے ٹیڈی بازار میں پیش آیا جس کی ایف آئی آر درج ہو گئی ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔پولیس نے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت جنید خان اور کلیم اللہ سے کی ہے اور یہ دونوں ٹیڈی بازار کے رہائشی اور فٹ بال کے کھلاڑی تھے۔

(جاری ہے)

جنید کے رشتہ داروں کے مطابق واقعے کی اصل وجہ جنید کے چھوٹے بھائی سے موبائل اور لیپ ٹاپ چھیننے سے ہوئی جس میں مبینہ طور پر کلیم اللہ کے بھائی ملوث تھے۔

جنید کے رشتہ دار احمد آفریدی نے بتایا کہ جنید کے بھائی صبح 4 بجے اپنے کام کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں کچھ لڑکوں نے روکا اور ان کا موبائل اور لیپ ٹاپ لینے کے ساتھ ساتھ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔احمد آفریدی نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کلیم اللہ کے کزنز کے بارے میں جنید کو بتایا جس کے بعد جنید کے بھائی اور کلیم اللہ کے بھائیوں میں لڑائی ہوئی البتہ اس کے بعد چھینا گیا موبائل اور لیپ ٹاپ واپس کر دیا گیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جنید کے خاندان نے مذکورہ واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کرائی تھی تاہم پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔جنید کے کزن نے بتایا کہ مذکورہ واقعے کے تین دن بعد دونوں کا پھر آمنا سامنا ہوا اور تکرار و جھگڑے کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ میں ایک، ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوئے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ جنید اور کلیم اللہ میں فٹبال پر بھی رنجش تھی اور تکرار بھی ہوئی تھی۔

جمرود کے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کیس ابھی تفتیش کے مرحلے میں ہے تاہم شبہ ہے کہ اصل مسئلہ فٹبال گراؤنڈ سے شروع ہوا تھا جو راستے میں لڑائی جھگڑے اور پھر فائرنگ تک جا پہنچا۔ڈی پی او ضلع خیبر محمد اقبال نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ جنید اور کلیم اللہ کے بھائیوں کی آپسی لڑائی سے شروع ہوا تاہم پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دونوں لڑکوں کے خاندانوں میں کوئی آپسی دشمنی یا رنجش نہیں تھی۔جنید کے کزن احمد آفریدی نے بتایا کہ ان دنوں جنید زیادہ فٹبال نہیں کھیل رہے تھے اور تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں جنید نے بتایا تھا کہ انہوں نے 22 نیشنل فٹبال میچوں میں حصہ لیا جبکہ دبئی میں بھارت کے خلاف میچ میں انہیں ایوارڈ بھی ملا تھا جبکہ کلیم اللہ بھی مقامی سطح پر فٹبال کھیلتے تھے۔نجی ٹی وی کے مطابق کلیم اللہ کے اہل خانہ سے رابطے کی کوشش کی لیکن مستقل کوشش کے باوجود رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔