شخصیات کی مستقل اجارہ داری سے ادارے مسلسل کمزور ہورہے ہیں،ڈاکٹر کامران عظیم

بدھ ستمبر 17:21

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 ستمبر2020ء) پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں شخصیات کی اجارہ داری ایک موذی مسلئہ بن چکا ہے اورمختلف تحقیقی اور تعلیمی اداروں میں گزشتہ پچاس برس سے مختلف شخصیات نے اپنی اجارہ داری قائم کرکے اداروں پر اپنے تسلط کو دوام دینے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے ڈین فیکلٹی آف لائف سایئنسز پروفیسر ڈاکٹر کامران عظیم نے گزشتہ روز یونیورسٹی کے پروگرام کارپوریٹ لاونج میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ کچھ شخصیات اپنی گو ناگوں صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک ایسا نظام قائم کررکھا ہے جس سے ادارہ پر ان کا تسلط ،قبضہ یا اثر ایک کیکڑے کی طرح مسلط ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اختیارات کو مختلف حیلے بہانوں سے سے بتدریج اپنے قبضہ میں کرنا اور ان کا ارتکاز اپنی ذات تک محدود رکھنا ان شخصیات کا خاصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے یہ لوگ بیوروکریسی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ان کو یہ باور کراتے ہیں کہ اگر انکی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا تو گویا قیامت بپا ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ان عناصر کی ان حرکتوں سے ادارے کمزور ہوجاتے ہیں اور انکی طاقت اور گرفت مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے جس کو قائم رکھنے کے لئے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو اس ضمن میں انکی مدد کرتے ہیں۔

ڈاکٹر کامران عظیم نے کہا کہ ان عناصر کی مذموم حرکتوں کی بنا پر میرٹ پر سمجھوتہ ہوتا رہتا ہے اور اصل حقدار کی حق تلفی ہوتی ہے اورناحق اور ناہل افراد کے نوازے جاتے جاتے ہیں جس کی بنا پر ادارے ناہل افراد کی آمجگاہ بن جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے یہ لوگ اس بات کا پورا بندوبست کرتے ہیں کہ کوئی اور دوسرا فرد ان اداروں کو چلانے کے لئے تیارنہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ جدید دور میں اس طرح کے فرسودہ خیالات اور جاگیر دارانہ سوچ کی قطعی گنجائش نہیں ہے ،سماجی علوم کے ماہرین لیڈرشپ کی نئی تعریف اور خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دور میں باثر کی صفات میں اپنے ماتحتوں میں خدمت کی خدمت کا جذبہ،سب کو جوڑ کر چلنا اور شراکت اختیارات شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اختیارات پر قابض ہونے کے بجائے ان کو منتقل کرنے کی روش سود مند ثابت ہوتی ہے، ٹیکنالوجی کی گرفت کے اس زمانے میں اداروں میں رہنمائی کے لئے نئے اصول درکار ہیں ، بنی نوع انسان اپنے جس ارتقائی دور سے گذر رہے ہیں اس میں سربراہی کے حاکمانہ انداز اور ٹاپ ڈاون لیڈرشپ ماڈلز کی گنجائش نہیں ہے۔