پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ70ہزار افراد تمباکو نوشی سے موت کا شکار ہوتے ہیں، طبی ماہرین

منگل ستمبر 14:57

پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ70ہزار افراد تمباکو نوشی سے موت کا شکار ہوتے ..
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 ستمبر2020ء) معروف طبی ماہرڈاکٹرملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ70ہزار افراد تمباکو نوشی سے موت کا شکار ہوتے ہیں، حکومت نے پبلک مقامات، دوران سفر اور سرکاری دفاتر میں سگریٹ نوشی قانوناً ممنوع قرار دے کر اہم پیش رفت کی ہے۔ ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ تمباکو نوشی انفرادی اور قومی سطح پر بھی مضر اور نقصان دہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارے صحت 2017 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ 70 ہزار سے زیادہ افراد تمباکو سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو میں نکوٹین ہوتی ہے، تمباکو میں ایسے خطرناک اجزاء ہوتے ہیں جو آدمی کو کینسر میں مبتلا کردیتے ہیں، تمباکو کا مسلسل استعمال منشیات کی عادت ڈال دیتا ہے جس کے نتیجے میں دمہ، ٹی بی، خون کی کمی اور نظام تنفس میں نقائص پیدا ہوجاتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تمباکونوشی کے عادی لوگوں کے بچے صحت مند نہیں ہوتے، طبی نقصانات اور جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور اخلاقی بیماریاں بھی تمباکو نوشی سے پیدا ہوتی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے خلاف انتہائی موثر عملی اقدامات کیے جائیں، ابلاغ عامہ کے تمام وسائل کے ذریعے اس عادت کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے تاکہ آئندہ نسلیں اس کے بھیانک اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ عنوان :