فارما انڈسٹری ایکسپورٹ میں اضافہ کر سکتی ہے : لاہور چیمبر

مقامی صنعت کی برآمدات اور ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کے سبب اس صنعت کو قومی مفاد کی صنعت کے طور پر دیکھا جانا اور ان کی تائید کی جانی چاہئے،صدر میاں طارق مصباح، نائب صدرطاہرمنظور چوہدری

جمعہ اکتوبر 21:12

فارما انڈسٹری ایکسپورٹ میں اضافہ کر سکتی ہے : لاہور چیمبر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اکتوبر2020ء) مقامی فارما سیوٹیکل انڈسٹری عوام کو ضروری دوائیں انتہائی کم قیمت پر مہیا کرتی ہے۔ مقامی صنعت کی برآمدات اور ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کے سبب اس صنعت کو قومی مفاد کی صنعت کے طور پر دیکھا جانا اور ان کی تائید کی جانی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہارلاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں طارق مصباح اور نائب صدر طاہر منظور چوہدری نے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم ای) کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔

پی پی ایم اے کے وفد کی قیادت چیئرمین تو قیر الحق کر رہے تھے ۔ وائس چیئرمین میاں خالد مصباح الرحمن، خواجہ شاہ زیب اکرم، احسن اعوان، زاہد سعید اور ڈاکٹر قیصر وحید بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

صدر لاہور چیمبر میاں طارق مصباح نے کہا کہ فارما انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ایک ممبر کو ایف بی آر کمیٹی میں شامل کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ دواسازی کی صنعت کے انپُٹس پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دوا کی قیمتوں کا تعین وزارت صحت کے بجائے وزارت تجارت کو کرنی چاہئے ۔صدر نے مزید کہا کہ دواسازی کے شعبے میں برآمدات کی بڑی صلاحیت ہے اور انہیں ٹیکسٹائل،لیدر، کھیل اور سرجیکل سامان کو دی جانے والی مراعات دی جانی چاہئیں، جبکہ یہ سیکٹر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دواسازی کے شعبے کو برآمدات بڑھانے کے لئے اسی طرح کے مراعات دیئے جائیں۔

میاں طارق مصباح نے کہا کہ اس وقت ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء (APIs) کے بحران کی وجہ سے حکومت کو دواسازی کے شعبے کے بہتر مستقبل کے لئے پاکستان میں ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء (API) پلانٹس لگانے چاہئیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ کوالٹی کنٹرول اور ہائی پرفارمنس لیکویڈ کرومیٹوگرافی (ایچ پی ایل سی) کے سامانوں پر ہائی سیلز ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس اور ڈیوٹی لگا دی گئی ہیں جن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ ڈریپ کو کلیئرنس جاری کرنی چاہئے، لاہور چیمبر کے صدر نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو مختلف شعبوں میں پریشانیوں سے بچنے کے لئے پالیسیوں میں مستقل مزاجی کو اپنانا چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے لئے تسلسل ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈ ریپ لائسنس کے اجراء میں تاخیر کا باعث ہے جس سے دواسازی کے شعبے کونقصان ہوتا ہے۔

میاں طارق مصباح نے کہا کہ پاکستان میں مقامی دواسازی کی صنعت مارکیٹ کے تقاضوں کو پورا کررہی ہے اور وہ عالمی سطح پر ادویات برآمد کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی ایم اے اور لاہور چیمبر کا کئی سالوں سے بہت اچھا رابطہ ہے اور وہ پی پی ایم اے سے ہم بہت زیادہ وابستہ ہیں۔ انہوں نے ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے اپنی مکمل مدد کی یقین دہانی کروائی ۔

چیئرمین پی پی ایم اے توقیر الحق نے کہا کہ پی پی ایم اے کو پختہ یقین ہے کہ لاہور چیمبر ان کے معاملات حل کرنے میں اپنا پورا تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ایف بی آر اور مختلف وزارتوں کی طرف سے مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دواسازی کے شعبے میں برآمدات کی بڑی صلاحیت ہے۔نائب صدر لاہور چیمبر طاہر منظور چوہدری نے وفد کے ممبران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اپنا ورکنگ پیپر لاہور چیمبر کو بھیجیں تاکہ ان کے مسائل حل کرنے کے لئے کام کیا جا سکی