چین کا تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں پر پابندی کا اعلان

چین کو اپنے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے پابندیاں عائد کرنے سے بڑھ کر بھی اقدمات کرنا پڑے تو کرے گا،بیان

منگل اکتوبر 14:01

چین کا تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں پر پابندی کا ..
بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اکتوبر2020ء) چین نے تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے،عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی دفتر خارجہ کے ترجمان ژاو لیجیان نے پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ چین کو اپنے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے پابندیاں عائد کرنے سے بڑھ کر بھی اقدمات کرنا پڑے تو کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور تائیوان کے درمیان معاہدے کے لیے ہتھیار فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں لاکہیڈ مارٹن، بوئنگ ڈیفینس، ریتھیون اور دیگر پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ تائیوان کو امریکا کی جانب سے ہتھیار کی فروخت میں شریک کمپنیوں کے ساتھ افراد کو بھی کڑی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(جاری ہے)

تاہم ترجمان کی جانب سے پابندیوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

دوسری جانب چین نہ صرف تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے بلکہ اس پر اختیار حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو بھی جائز تصور کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کو دفاعی ساز و سامان کی فراہمی سمیت جنوبی بحیرہ چین، ہانگ کانگ اور انسانی حقوق سمیت کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔چین کی جانب سے جن کمپنیوں پر پابندی کا اعلان کیا گیا ہے ان میں سے عالمی خبر رساں ادارے کے رابطہ کرنے پر بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن نے کہا کہ وہ امریکی حکومت کے ضابطوں کی پابند ہیں اور ان کی چین میں موجودگی محدود نوعیت کی ہے۔ ریتھیون نے اس حوالے سے فوری کوئی جواب نہیں دیا ۔