ترک صدر نے گستاخ رسولﷺ گیرٹ وائیلڈر کیخلاف فوجداری مقدمے کی درخواست دائر کر دی

نیدر لینڈ سے تعلق رکھنے والا شدت پسند سیاستدان گیرٹ وائیلڈر متعدد مواقعوں پر حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کر چکا

muhammad ali محمد علی منگل اکتوبر 19:38

ترک صدر نے گستاخ رسولﷺ گیرٹ وائیلڈر کیخلاف فوجداری مقدمے کی درخواست ..
انقرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اکتوبر2020ء) ترک صدر نے گستاخ رسولﷺ گیرٹ وائیلڈر کیخلاف فوجداری مقدمے کی درخواست دائر کر دی۔ تفصیلات کے مطابق ترک صدر ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے تمام مسلمان رہنماوں پر بازی لے گئے ہیں۔ طیب اردگان کی جانب سے گستاخ رسولﷺ گیرٹ وائیلڈر کیخلاف فوجداری مقدمے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شدت پسند ڈچ سیاستدان نے ترک صدر کی بھی تضحیک کی ہے جس کے بعد اسے عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس شدت پسند ڈچ سیاستدان کی جانب سے ہفتے کے روز اردگان کی تصویر والا ایک کارٹون پوسٹ کیا گیا تھا جس میں ترک صدر کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔ پھر اس گستاخ رسولﷺ کی جانب سے سے گزشتہ روز بھی تضحیک آمیز پیغام جاری کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس نے ایک ڈوبتے جہاز کی تصویر پوسٹ کی جس پر ترکی کا قومی پرچم لہرا رہا تھا۔

(جاری ہے)

اس تصویر کیساتھ گیرٹ وائلڈر نے لکھا کہ ’’بائی بائی اردگان ، ترکی کو نیٹو سے نکال باہر کرو‘‘۔

اس تمام شرمناک حرکت کے بعد ترک صدر طیب اردگان کے وکلاء نے منگل کے روز انقرہ میں پراسیکیوٹرز کے ہاں ایک قانونی درخواست دائر کی ہے اور اس میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ترکی کی عدالتوں کو اس معاملے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے کیونکہ ملک کے صدر کی توہین کی گئی ہے۔ ترک وکلاء نے موقف اختیار کیا ہے کہ گستاخ رسول گیرٹ وائیلڈر کے تبصرے کو اظہار رائے کی آزادی کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ اس شخص نے آزادی اظہار رائے کی آڑ میں صدر اردگان کیی عزت، وقار، کردار اور شہرت پر حملہ کیا ہے۔

جبکہ اس تام واقعے کے حوالے سے ترک وزیر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ یورپ اپنے دھتکارے ہوئے نسل پرست ذہنیت کے حامل سیاست دانوں کو روکے۔ جبکہ اس گستاخ رسولﷺ کو ترکی کی جانب سے دہشت گرد بھی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس شخص کے دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات قائم ہیں۔ یہاں واضح رہے کہ نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والا گیرٹ وائیلڈرس مسلم مخالف نسل پرست سیاست دان کے طور پر مشہور ہے۔ اس شخص کی جانب سے کئی مواقعوں پر حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی ہے، جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔