نوکیلے دانتوں والے خوفناک ٹک ٹاکرز

لگتا ہے ٹک ٹاکرز بوڑھے ہونے سے پہلے ہی بتیسی لگوانے کے خواہاں ہیں

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل دسمبر 05:57

نوکیلے دانتوں والے خوفناک ٹک ٹاکرز
 لندن: (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 دسمبر 2020ء) اس قدر فضول اور بے ڈھنگ قسم کے شوق ٹک ٹاکرز کے ہوتے ہیں کہ دوسروں کو دیکھ کر غصہ کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں آتا۔کبھی بالوں کے عجیب سے اسٹائل بنائیں گے تو کبھی چہرے کو بگاڑ لیں گے اور اب اپنے ہی منہ کے اندر گھس گئے ہیں۔ٹک ٹاکرز نے نیا ٹرینڈ متعارف کرانے کے چکر میں اپنے دانتوں کو ترشوانا شروع کر دیا ہے۔

سستی شہرت پانے والے ٹک ٹاکرز اس قسم کی حرکتیں کرتے ہی رہتے ہیں مگر دانتوں کو ترشوانے کا مطلب ہے کہ اگلے چند سالوں میں آپ دانتوں سے مکمل طور پر ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔مگر ٹرینڈ کو تو فالو کرنا ہی پڑتا ہے لہٰذا اب ٹک ٹاکرز میں دانتوں کو گھسوانے کا نیا جنونی رجحان چل پڑا ہے، بعض مرد اور خواتین نے اپنے سامنے کے دانتوں کو اس طرح ترشوایا ہے کہ وہ شارک کے دانتوں کی طرح تکونے اور نوکیلے ہوجاتے ہیں، اس طرح دانتوں کے درمیان وسیع خلا دکھائی دیتا ہے۔

(جاری ہے)

دانتوں کے ماہرین نے ٹک ٹاک دیکھنے والے تمام افراد کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پاگل پن سے دور رہیں کیونکہ 40 سال کی عمر میں دانت ڈھیلے اور کمزور پڑجائیں گے۔ اس طرح انہیں بچانے کے لیے دانتوں پر کیپ لگانا پڑیں گے۔ ایک مرتبہ دانت کو اس طرح گھسوانے سے دانت کسی بھی طرح دوبارہ ٹھیک نہیں ہوسکیں گے۔بعض ٹک ٹاکرز نے کہا ہے کہ اس عمل کا گڑھ ترکی ہے جہاں ٹک ٹاکرز وہاں جاکر دانتوں کو نوکیلا بنوارہے ہیں اور اس طرح کا روپ دھارنے والے اب تعداد میں بڑھ چکے ہیں۔

ایسی ویڈیوز پر دندان سازوں نے دھڑادھڑ انتباہی پیغامات دیتے ہوئے عوام کو اس عمل سے روکا ہے۔ ٹک ٹاکرز کے ترشوائے ہوئے دانتوں کو دیکھ کر ماہر دندان نے کہا کہ یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ دانت گھسواتے سے رگیں کھل جائیں گی اور اگلے دس سال کے اندر اندر اس کے شدید منفی نتائج سامنے آئیں گے۔ اس طرح انہیں ایمرجنسی میں دانتوں پر کیپ یا کوئی دوسر طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔بعض ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ دانت اتنے متاثر ہوجائیں گے کہ شاید 40 برس کی عمر میں بتیسی لگوانی پڑجائے گی۔

متعلقہ عنوان :