ملک میں کپاس کی پیداوار 1 کروڑ 50 لاکھ گانٹھوں سے کم ہوکر صرف 55 لاکھ گانٹھوں کی رہ گئی ہے،پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن

ضلع بندی اور کپاس کی سپورٹ پرائس مقرر کرنے کا بھی مطالبہ

ہفتہ جنوری 21:52

ملک میں کپاس کی پیداوار 1 کروڑ 50 لاکھ گانٹھوں سے کم ہوکر صرف 55 لاکھ گانٹھوں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 جنوری2021ء) پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ملک میں کپاس کی پیداوار 1 کروڑ 50 لاکھ گانٹھوں سے کم ہوکر صرف 55 لاکھ گانٹھوں کی رہ گئی ہے۔ PCGA نے حکومت کو کاٹن بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کرتے ہوئے ضلع بندی اور کپاس کی سپورٹ پرائس مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ PCGA کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے ملک کو تقریبا 36 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

دریں اثنا PHMA نے بیرون ممالک سے کاٹن یارن کی درآمد پر عائد شدہ ریگولیریٹی ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کی استدعا کی حکومت نے ریگولیریٹی ڈیوٹی ختم کردی لیکن ہنوز کسٹم ڈیوٹی ختم نہیں کی ہے جس کے لئے PHMA اپیل کر رہا ہے علاوہ ازیں پاکستان ٹوال مینوفیکچررز ایسوسی ایشن TMAP نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ملک میں یارن کی کمی ہونے کی وجہ سے یارن کی برآمد پر پابندی عائد کی جائے علاوہ ازیں FBATI نے بھی یارن کی درآمدی ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ٹیکسٹائل اسپنرز کا کہنا ہے کہ ملک میں روئی کی پیداوار میں تشویشناک حد تک کمی اور بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کے بھاؤ میں اضافہ اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے ہوشربا برآمدی آرڈر کی وجہ سے یارن کی طلب میں اضافہ کے سبب بھاؤ میں اضافہ ہوا ہے ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز بھی فل گنجائش میں چل رہے ہیں جس کیلئے بیرون ممالک سے وافر مقدار میں روئی درآمد کی گئی ہے جس کی وجہ سے ملک میں وافر مقدار میں یارن دستیاب ہے

متعلقہ عنوان :