اسد درانی کے’ را‘ سے رابطے کے شواہد موجود ہیں، وزرات دفاع کا عدالت میں جواب جمع

معاملہ عدالت میں ہے اور جوڈیشل پراسیس کے ذریعے ہی حل ہونا چاہیے، اسد درانی کا موقف

بدھ جنوری 19:20

اسد درانی کے’ را‘ سے رابطے کے شواہد موجود ہیں، وزرات دفاع کا عدالت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2021ء) وزارت دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے معاملے پر تحریری جواب داخل کرا دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق وزرات دفاع نے جواب میں کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ساتھ 2008 سے جڑے ہیں اور وہ دوسرے ملک دشمن عناصر کے ساتھ بھی 2008 سے رابطے میں ہیں۔

وزارت دفاع نے بتایا کہ اسد درانی نے ملک سے باہرجانے کیلئے عدالت سے نام ای سی ایل سے ہٹانے کی درخواست کررکھی ہے تاہم اسد درانی کا نام وزارت دفاع کی سفارش پر 2019 میں ای سی ایل پر رکھا گیا تھا۔تحریری جواب کے مطابق اسد درانی نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ مل کے ’اسپائی کرانیکلز‘ نامی کتاب لکھی، کتاب کے معائنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا کا مواد آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1952 کی خلاف ورزی ہے۔

(جاری ہے)

وزارت دفاع نے کہا کہ اس طرز کی اور بھی کئی کتابیں پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور قومی سلامتی کے خلاف تکمیل کے عمل میں ہیں جبکہ اسد درانی کی اکتوبر 2020 کو سوشل میڈیا پر دی گی رائے کو بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔وزارت دفاعی اپنے جواب میں لکھا کہ اسد درانی کا اس کتاب کیلئے باہرجانا، پینل انٹرویو یا بین الاقوامی کانفرنس میں حصہ لینا قومی سلامتی کے خلاف ہے، موجود قانون کے مطابق ایسا شخص پاکستان سے باہر نہیں جا سکتا جس پر ملک کے خلاف سازش کا الزام ہو۔

جواب میں کہا گیا کہ ایسا شخص باہر نہیں جاسکتا جس پرمخبری، قومی سلامتی کے خطرے یا دہشتگردی کا الزام ہو۔وزرات دفاع نے درخواست کی کہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نا ہٹایا جائے کیونکہ اسد درانی نے وزارت دفاع کو تحریری بیان میں اس طرح سرگرمیوں سے دور رہنے کا حلف دیا تھا تاہم ابھی تک ان کی طرف سے اس حلف کی پاسداری دکھائی نہیں دیتی۔

دوسری جانب وزارت دفاع کے جواب پر اسد درانی کا کہنا تھا کہ وہ وزارت دفاع کے اس الزام پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے اور جوڈیشل پراسیس کے ذریعے ہی حل ہونا چاہیے۔اٴْدھر ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کی سماعت فروری کے دوسرے ہفتے میں متوقع ہے جبکہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی فروری کے دوسرے ہفتے میں اس کیس کی سماعت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوں گے۔