سعودیہ میں پتھروں سے بنے قدیم گھروں کا دُنیا بھر میں چرچا ہو گیا

پہاڑی علاقوں پر بنے یہ گھر انتہائی دیدہ زیب اور پائیدار ہیں، نئے دور میں بھی ان گھروں کا رواج عام ہونے لگا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 12:39

سعودیہ میں پتھروں سے بنے قدیم گھروں کا دُنیا بھر میں چرچا ہو گیا
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔15 جون2021ء) سعودی عرب ہزاروں سال پرانی تہذیب کا مرکز ہے، تاہم اس کے تہذیبی آثار آج سے کچھ دہائیاں پہلے ہی سامنے آنا شروع ہوئے ہیں، جس نے دُنیا کو حیرانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ سعودیہ کے قدیم ترین شاہکاروں میں سے پتھر کی چٹانوں سے بنے گھر میں دُنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔العربیہ نیوز کے مطابق وقت کے تھپیڑے کھانے کے باوجود ان مکانات کی سادگی اور شان وشوکت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

ایک مقامی ٹوریسٹ گائیڈ فہد آل مقبل نے بتایا کہ وادیوں کے اندر اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر مقامی لوگ گئے وقتوں میں پتھروں کے ذریعے ایسے گھر تیار کرتے تھے۔ایک سوال کے جواب میں آل مقبل نے کہا کہ مکان کی تعمیر سے قبل اس کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب اس کی تعمیر کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

اس کیبعد اس جگہ کو صارف کیا جاتا ہے اور مٹی کی نیچے موجود چٹان تک پہنچ کر اس پر اس کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں۔

اس کے بعد کاری گر جسے مقامی زبان میں ’منضی‘ کہاجاتا ہے مکان کی تعمیر کے لیے پتھر تیار کرتا ہے۔
پتھروں کو توڑ کو برابرکیا جاتا ہے یا انہیں قریبی وادیوں سے جمع کیا جاتا ہے۔اگرپتھر قریب نہ ہوں تو دور سے پتھروں کو اونٹوں اور گدھوں پر لایا جاتا اور اس کے اس بعد گھروں کی بنیادیں تیار کی جاتی ہیں۔ پہلی منزل کی تیاری کے بعد اس پر لکڑی کی چھت ڈال دی جاتی۔

چھت کے لیے عرعر، الاثل ، ببول یا سدر کے درختوں کی لکڑی استعمال کی جاتی ہے۔ایک اور کاری گر جسے المکحل کہا جاتا ہے بڑے پتھروں کے درمیان چھوٹے پتھروں کو انتہائی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ جوڑتا اور ان کے درمیان موجود خلا کو بھرتا ہے۔جہاں تک ان گھروں کے دریچوں اور کھڑکیوں کی بات ہے تو انہیں بھی ماہر کاری گر تیار کرتے ہیں۔ کھڑکیوں کے لیے سفید رنگ کے پتھر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد بڑھئی ان کے لیے لکڑی کی کھڑکیاں اور دروازے بناتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :