سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی پر اراکین اسمبلی کو سخت سزا دینے کا فیصلہ

پارلیمنٹ میں آج جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، ہنگامہ آرائی اور نازیبا نعرے لگانے والے اراکین کے خلاف تحقیقات کی جائے گی اور ملوث اراکین کو کل تک سخت سزا دی جائے گی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری منگل 15 جون 2021 23:29

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی پر اراکین اسمبلی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 15 جون 2021 ) پارلیمنٹ میں آج جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی اور نازیبا نعروں پر تحقیقات کرانے کا فیصلہ، ہلڑ بازی میں ملوث اراکین کو سخت سزا دینے کا اعلان کر دیا- تفصیلات کے مطابق نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ آج پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوا وہ پارلیمانی روایات کے خلاف اور قابل مذمت ہے، انہوں کے کہا آج پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی میں ملوث اراکین کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انہیں سخت سزا بھی دی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے- اسپیکر اسد قیصر نے آج قومی اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات پر تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کے واقعات کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی‘۔

(جاری ہے)

انہوں نے اعلان کیا کہ ’غیرپارلیمانی یا بد زبانی کرنے والے ارکان کو (بطور سزا) کل ایوان میں داخلےکی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے آج ہنگامہ آرائی کے دوران ایک دوسرے کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی‘۔ اسد قیصر نے اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے رویے کو قابلِ مذمت اور مایوس کن قرار دیا۔ واضح رہے کہ بجٹ پیش ہونے کے بعد آج اسیپکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں مبینہ طور پر اپوزیشن جماعت کے ایک رکن کی جانب سے غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا گیا۔

بعد ازاں دونوں طرف کے اراکین نے ایک دوسرے پر چڑھائی کی اور نوبت ہاتھا پائی تک بھی پہنچی، ایوان کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے دو بار اجلاس کو ملتوی کیا۔ قائدِ حزب اختلاف کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے ایک دوسرے پر بجٹ کی کاپیاں پھینکیں، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی ملائیکہ بخاری کی آنکھ زخمی بھی ہوئی۔ ایوان میں کشیدگی بڑھتی کشیدگی اور اراکین کے درمیان ہاتھا پائی کے خدشے کو دیکھتے ہوئے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے سینیٹ سیکریٹریٹ سے رابطہ کیا اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے مدد طلب کی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ نے درخواست پر اضافی سارجنٹ ایٹ آرمزکی خدمات قومی اسمبلی کو دیں۔