بی این پی سمیت اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اپنا نظریہ چند اسکیمات کی خاطر دائو پر لگا دیا ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان

عوام کے ووٹ نظریے کی بنیادپر لینے والوں نے سڑکوں، نالیوں ، ٹھیکوں اور ایکسینوں کے لئے اپنا نظریہ قربان کردیا، جام کمال خان

جمعہ جون 22:39

بی این پی سمیت اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اپنا نظریہ چند اسکیمات کی ..
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جون2021ء) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بی این پی سمیت اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اپنا نظریہ چند اسکیمات کی خاطر دائو پر لگا دیا ہے عوام کے ووٹ نظریے کی بنیادپر لینے والوں نے سڑکوں، نالیوں ، ٹھیکوں اور ایکسینوں کے لئے اپنا نظریہ قربان کردیا، بجٹ اجلاس میں ہنگامی آرائی کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے گالم گلوچ، تور پھوڑ ، بلیک میلنگ کر نے والوں سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہونگے ،بجٹ عوام دوست سے جس سے خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا، یہ بات انہوں نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2021-22کا بجٹ پیش ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ اپوزیشن نے میں نہ مانوں کی رٹ لگا رکھی ہے بجٹ میں جتنی بھی اسکیمات ہیں وہ اپوزیشن کے حلقوں میں بھی ترقی کے لئے ہیں اپوزیشن بجٹ دیکھ لے کہ انکے حلقوں میں حکومت نے کام کیا ہے یا نہیں انہوں نے کہا کہ دو سال تک اپوزیشن نے بجٹ سے قبل ہم سے مذاکرات کئے انکی تجویز کردہ اسکیمات بجٹ میں شامل ہوئیں اپوزیشن اپنافائدہ لینے کے بعد عدالت چلی گئی اور پی ایس ڈی پی بند کروا دی انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام حلقوں میں انکی ضروریات اور جو مناسب سمجھا ان منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل کیا انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار کی بات کرنے والی اپوزیشن آج بھول گئی کہ یہ صوبے کا سب سے مقدس ایوان ہے جس میں خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا اور توڑ پھوڑ کی گئی وہ سب کے سامنے ہے انہوں نے کہا کہ ایوان کو بہترین فورم قرار دینے والی اپوزیشن آج خود ایوان میں نہیں آئی جو لوگ یہاں کھڑے ہو کر تقاریر کرتے تھے کل انہوں نے خود اس ایوان کو غیر قانونی قرار دے دیا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے جو کچھ آج کیا اس پر انکے خلاف سنگین کیسز بن سکتے ہیں واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ رعایت برتی انکے مسائل سنے تجاویز کو اہمیت دی اپوزیشن نے حکومت کے خلاف بات کی اس کو بھی خندہ پیشانی سے سنا مگر اسکے باوجود اپوزیشن نے جو کچھ کیا وہ نا مناسب تھا تو ڑ پھوڑ ،گالم گلوچ کے ماحول میں اپوزیشن سے کسی بھی صورت مذاکرات نہیں ہوسکتے اپوزیشن ارکان ہمارے ساتھ رابطوں میں تھے اور وہ باتیں یہاں نہیں بتا سکتا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے کہوں گا کہ وہ اپنا موقف بتا دے کہ انہیں کیا چاہیے اگر انہیں اسکیمات چاہئیں تو میں انہیں اسکیمات دینے کو تیار ہوں اور وہ احتجاج ختم کردیں صرف 8سے 10 کروڑ روپے کی اسکیمات کے لئے انہوں نے یہ کچھ کیا اور کیا انہیں یہ اسکیمات ملنے کے بعد وہ گڈ گورننس ، اپنی تقایربھول جائیں گے اگر یہ درست ہے تو پھر میں سردار اختر مینگل کی بات دہرا دیتا ہوں کہ انہوں نے کہا تھاکہ عوام نے ہمیں ووٹ سڑکیں ،نالیاں بنانے کے لئے نہیں بلکہ ہمارے نظریے کی بنیاد پر دیا تھا میرا پوزیشن سے سوال ہے کہ کیا انہوں نے اسکیمات کے لئے اپنا نظریہ اور موقف تبدیل کرلیا ہے اپوزیشن بتا دے کہ انہوں نے نالی ،ٹھیکے، ایکسین کے لئے اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ، ژوب ڈویژن، قلعہ عبداللہ میں دو اضلاع ، خاران اور گلستان میں اسکول ،کالج ، لائبریری کے قیام سے کسی کی ذات یا حکومت نہیں بلکہ صوبے کی عوام کا فائدہ ہوگا آج صوبے کے ہر شخص کے پاس علاج کے لئے 10لاکھ روپے ہونگے یہ ہمارے لئے نہیں بلکہ بلوچستان کی عوام کے لئے ہے ۔