Live Updates

کوچی کون ہیں اور یہ پاکستان کیوں آتے ہیں؟

DW ڈی ڈبلیو اتوار جون 11:00

کوچی کون ہیں اور یہ پاکستان کیوں آتے ہیں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 جون 2021ء) جب بات چراگاہوں اور غلہ بانی کی ہو یا پھر پیروں فقیروں کا ذکر ہو تو افغانستان کے ان 'کوچیوں یا خانہ بدوشوں ‘ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سفید اونٹوں پر بکریوں کے بچے اٹھائے 72سالہ محمد خان پہاڑی سلسلوں اور صنوبر کے جنگلات سے گزرتے ہوئے اپنے مویشوں کا سودا کرنے کے لیے بلوچستان کے علاقے زیارت پہنچے ہیں۔

محمد خان نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ گرمیوں کے مہینے ان کے لیے بہترین ہوتے ہیں۔ کیوں کہ گرمیوں میں ہی وہ بلوچستان، سندھ، کے پی کے اور پنجاب کے مختلف شہروں میں اپنے مویشوں کو فروخت کرتے ہیں۔ محمد خان کے مطابق ان کا کل سرمایہ چار اونٹ، بارہ بکرے اور دو گدھے ہیں۔ سردیاں شروع ہوتے ہی محمد خان اور ان جیسے دیگر کئی کوچی واپس افغانستان کا رخ کریں گے۔

(جاری ہے)

خیمے لگانا، مویشی پالنا اور مسلسل سفر میں رہنا ان کی زندگیوں کا حصہ ہے۔

یہ کوچی اپنی سالانہ ہجرت کے دوران گوشت، دودھ اور اس جیسی دیگر اشیاء کو مقامی منڈیوں میں فروخت کرتے ہیں۔ محمد خان کے مطابق آس پاس کے دیہات کے لوگ انہیں آسانی سے خیمے نصب کرنے کی اجازت نہیں دیتے، یہ جاننے کے باوجود کہ یہ قیام اور چراہ گاہ عارضی طور پر ہی قائم کی جائے گی۔

سرحد نہیں آزادی اہم ہے

گو کہ کوچیوں کی تاریخ جاننا انتہائی مشکل کام ہے لیکن موجودہ کوچیوں کو دیکھ کر یہ بخوبی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے لیے سرحدوں سے زیادہ اپنی آزادی اہم ہے اور یہ زمین کے ہر گوشے سے محبت کرتے ہیں چاہے ان کا پڑاﺅ کہیں بھی ہو۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کوچی اس وقت بھی آزاد تھے، جب سرحدیں قائم نہیں ہوئی تھیں، لہٰذا افغان کوچی بھی ریاست سے زیادہ اپنے روٹس یا سفر کے راستوں کو اہمیت دیتے ہیں۔

کوچیوں کا عقیدہ اور آبادی

کہتے ہیں کہ افغان کوچی عام طور پر ایک صوفی مسلمان ہوتا ہے، جو کسی بھی انتہاپسندی سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن افغان جنگ کے دوران ان خانہ بدوشوں کی ایک بڑی تعداد طالبان کے ساتھ بھی شامل ہوئی تھی۔ سن 2004ء میں ایک جائزے کے ذریعے علم ہوا تھا کہ افغانستان میں ان کی آبادی تقریباً 2.42 ملین ہے، جس میں تقریباً 1.5 ملین یعنی تقریباﹰ 60 فیصد مکمل طور پر خانہ بندوش ہیں۔

1947ء سے لے کر 1960ء تک افغانستان سے پاکستان (بلوچستان ) میں داخل ہونے والے تقریباً ہر کوچی کا اندراج کیا جاتا تھا۔

1960ء کی دہائی کے اوائل میں ان کوچیوں کی آمد اس وقت روکی، جب دونوں ممالک کی سرحدیں بند کر دیں گئی تھیں لیکن اس دوران اور اس کے بعد بھی کوچی یہ سرحدیں عبور کرتے رہے اور سیاہ رنگ کے اپنے مخصوص خیمے گاڑتے رہے۔

افغان جنگ کے کوچیوں پر اثرات

سوویت افغان جنگ نے، جہاں افغانستان کے امن کو بری طرح متاثر کیا، وہاں کوچیوں کی زندگیوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

کوچی افغان مہاجرین کے طور پر رہنا نہیں چاہتے تھے لیکن جنگی حالات کی وجہ سے ان کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں قائم افغان پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہوئی۔ بنیادی طور پر غلزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے کوچی دیگر قبیلوں میں با آسانی ضم ہوتے گئے، جن میں خروٹی، اندار نیازی اور احمد زئی جیسے قبائل شامل ہیں۔ یہی وہ وجہ ہے کہ افغانستان کا کوچی بلوچستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں باآسانی سکونت اختیار کر پاتا ہے۔

مالی اور نفسیاتی مسائل

افغان جنگ کے دوران کوچی خانہ بدوش شدید مالی اور ذہنی مسائل کا شکار رہے۔ قندھار ہو یا ہرات افغانستان سے لے کر بلوچستان کے سرحدی علاقے ان کے لیے غیر محفوظ ہو گئے۔ مسلح تصادم کے نتیجے میں کوچیوں نے اپنی نقل و حرکت کو محدود کر دیا۔ بمباری کے نتیجے میں ان کے کئی ہزار مال مویشی ہلاک ہو گئے۔

ولایت خان بھی ایک کوچی ہیں۔

وہ افغان جنگ کے دوران ہرات میں ایک طویل عرصے تک رہے۔ ولایت خان بتاتے ہیں،''ہمیں افغان جنگ کے خاتمے کے بعد سب سے بڑا ڈر بارودی سرنگوں کا ہوتا تھا۔ کیونکہ کوچی زیادہ تر اپنا پڑاﺅ پانی کے قریب ڈالتے ہیں اور اکثر ایسے علاقوں پر جنگجوﺅں کا کنٹرول ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہمیں ہمیشہ حملے کا خوف رہتا تھا۔‘‘

افغان محقق اور صحافی مالک اچکزئی نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا،''افغان کوچیوں کا زیادہ انحصار قدرت کی عطا کردہ زمین پر بہنے والے پانی اور اگنے والی گھاس پھوس پر ہوتا ہے۔

یہ اس دور میں بھی اپنی گھریلو ضروریات پورا کرنے کے لیے فطرت کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے خاندان میں خواتین کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خاندانی مسائل پر بحث و مباحثے اور فیصلوں میں کوچی خواتین کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔‘‘

کوچی خواتین کا طرز زندگی

رنگین لباس اور روایتی زیورات پہنے اگرچہ کوچی خواتین کی ایک مشکل زندگی ہے لیکن ایک قبائلی افغان یا بلوچ عورت سے خاصی مختلف ہے۔

یہ خواتین خیموں میں رہتے ہوئے مردوں کے شانہ بشانہ کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔ مویشیوں کو چرانے سے لے کر جانوروں کی خریدو فروخت میں کوچی عورت کافی حد تک خود مختار ہوتی ہے۔کوچی خاتون کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے مرد سے زیادہ محنت کش ہوتی ہے۔

ہجرت کے دوران گھنٹوں تک پیدل سفر، کئی دنوں تک کے سامان کو محفوظ طریقے سے پیک کرنا، دودھ سے دہی اور پنیر تیار کرنا اور روایتی زیورات کے ساتھ ساتھ کڑھائی کرنا کوچی خواتین خاص ہنر ہیں۔

ایسے ملبوسات کو دنیا بھر میں کوچی کے نام ہی جانا جاتا ہے۔

مویشیوں کے اون سے مختلف ڈیزائن کے قالین تیار کرنا، جہاں ان خانہ بدوشوں کی ثقافت کا حصہ ہے، وہاں یہ قدیم اور جدید انداز کی ہنر مندی کا واضح ثبوت بھی پیش کرتے ہیں۔

مصاحب بی بی آج بھی کہیں مستقل قیام سے زیادہ خانہ بدوشی کی زندگی کو ترجیح دیتی ہیں۔ اپنے مخصوص کالے خیمے کے باہر کیتلی میں پکتی ہوئی چائے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مصاجب بی بی نے بتایا ،'' کوچیوں کی زندگی بھی اس قدر پختہ ہے۔

ہم جدید دنیا سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے لیے ذرائع ابلاغ فقط ایک ریڈیو ہے اور ہم اسی میں خوش ہیں۔ البتہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں، جہاں پشتو کا رواج عام نہیں ہے، ہمارے لیے بات چیت میں مسائل ہوتے ہیں۔ ہم یہ بات انتہائی وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ کوچی خواتین اپنے قبیلے میں گھریلو امور سے لے کر معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔‘‘

خشک سالی کے مسائل

جفاکشی اور محنت اپنی جگہ لیکن سامان کی منتقلی ایک خانہ بدوش کے لیے آسان نہیں۔

افغانستان میں خشک سالی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک کوچی کا سرمایہ اس کے مال مویشی ہی ہوتے ہیں۔ بہت سے متاثرہ علاقوں میں آج بھی پانی کے ذرائع دستیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ اس طرح کی خشک سالی سے ان خانہ بدوشوں کے معاش اور ثقافت دونوں کو خطرات ہیں۔

سرحد پر باڑ

پیروں اور صوفیاء سے محبت کرنے والے یہ خانہ بدوش خود کو خدا کا 'آزاد بندہ‘ تصور کرتے ہیں۔

موجودہ پاک افغان سرحد پر باڑ نصب کرنے کے فیصلے نے ان خانہ بدوشوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

ہمایوں پچھلے 16 سال سے قالین سازی کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ہمایوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد کوچی خواتین کے ہاتھ سے بنانے گئے قالینوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے،''لیکن اگر یہ باڑ مستقل بنیادوں پر لگ گئی تو ہمارے لیے سرحد کو عبور کرنا مشکل ہو جائے گا۔

ہم نے مشکلات برداشت کیں، غربت، بیماری اور خوراک کی تنگی کا مقابلہ کرتے رہے لیکن اگر خدا کی زمین ہمارے لیے تنگ کر دی جائے گی تو فطرت سے نزدیک ہم خانہ بدوش مزید تنزلی کا شکار ہو جائیں گے۔‘‘

امتیازی سلوک کا الزام

کوچیوں کا خیال ہے کہ جنگ بندی کے بعد ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا جا رہا ہے۔ ان کی شکایات میں یہ بھی شامل ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ایک عام افغانی کی طرح انہوں نے بھی نقصان اٹھایا لیکن غیر ملکی امدادی ایجنسیوں نے کوچیوں کو نظر انداز کیا۔

سن 2005ء کی افغان قومی اسمبلی میں کوچیوں کو اپنا حلقہ انتخاب حاصل ہوا اور 249 نشستوں میں سے 10نشستیں ان کے لیے مختص کی گئیں۔ مردوں کے لیے سات اور تین خواتین کے لیے۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ کوچی افغانستان کی سیاست میں اب ایک خاص مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

افغانستان کی بگڑتی صورتحال سے متعلق تازہ ترین معلومات