’جتنا شہد تیار ہو ہم خریدنے کو تیار ہیں‘ سعودی عرب کی بلین ٹری ہنی منصوبے کیلئے پاکستان کو پیشکش

یہ بات پاکستان میں سعودی عرب کے سفیرنواب الملکی نے وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیات امین اسلم سے ملاقات کے موقع پر کہی

Sajid Ali ساجد علی پیر 18 اکتوبر 2021 16:54

’جتنا شہد تیار ہو ہم خریدنے کو تیار ہیں‘ سعودی عرب کی بلین ٹری ہنی ..
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 18 اکتوبر 2021 ) سعودی عرب نے حکومت پاکستان کو بلین ٹری ہنی منصوبے کے تحت پیشکش کی ہے کہ جتنا شہد تیار ہو ہم خریدنے کو تیار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں سعودی عرب کے سفیرنواب الملکی نے بلین ٹری ہنی میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جتنا شہد تیار ہو سعودی عرب خریدنے کو تیار ہے ، انہوں نے یہ بات وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیات امین اسلم سے ملاقات کے موقع پر کہی جنہوں نے سعودی سفیرکو سالٹ رینج کے بلین ٹری ہنی تحفے میں دیئے اس موقع پر ملک امین اسلم نے برطانوی ہائی کمشنر کو بھی بلین ٹری ہنی تحفے میں دیا ، اس دوران دونوں سفارتکاروں نے منصوبےکی کامیابی سمیت نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔

خیال رہے کہ حکومت نے گزشتہ برس دسمبر میں بلین ٹری سونامی شہد منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا ،بلین ٹری شہد کا 2 ارب کا 2 سالہ منصوبہ ہوگا اس منصوبے کے تحت پاکستان کے 10 لاکھ ایکڑ جنگلات میں7 اقسام کے شہد کی پیدوار ہوگی جس سے ملک بھرمیں 12 ہزارمیٹرک ٹن شہد کی پیدوار ہوگی ، جس میں سے 1200 میٹرک ٹن بلین ٹری سونامی شہد کے نام سے برانڈ ایکسپورٹ کرسکیں گے جب کہ منصوبے کے تحت 3 کوالٹی کنٹرول لیبارٹریز اور 30 مقامات پر شہد لینے کی سہولت دستیاب ہوگی ، اس منصوبے سے 2 سال میں بلین ٹری شہد کی پیداوار9 فیصد بڑھ جائے گی۔

(جاری ہے)

بلین ٹری ہنی پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے سیاسی فوائد کیلئے جنگلات کی اراضی لیز پر دی، بلین ٹری سونامی پرہمارا مذاق اڑایا گیا، باہر کی این جی او نے آڈٹ کے ذریعے بلین ٹری سونامی کو سپورٹ کیا، پاکستان میں برآمدات بڑھائے بغیر دولت نہیں بڑھ سکتی، برآمدات بڑھانے کیلئے کوالٹی کو کنٹرول کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سامنے سب سے بڑے چیلنجز جنگلات کی کمی ، ہوااور صاف پانی نہ ہونا ہے ، دریاؤں میں ایسی چیزیں ڈالیں کہ پانی زیرزمین جارہا ہے، زیر زمین پانی آلودہ ہوتا جارہا ہے،سپریم کورٹ نے کہا کہ سندھ میں زیرزمین 70 فیصد پانی آلودہ ہے ، ہماری حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کریں، دریاؤں کو صاف کریں اور ہوا کو بھی صاف کریں ، پاکستان میں پہلی بار کسی حکومت نے درخت لگانے کا سوچا ،جب پختونخواہ میں ہماری حکومت آئی تو ہمارا مذاق اڑایا گیا، کیونکہ کسی نے سوچا ہی نہیں کہ پانچ سالوں میں کیا ہوگا؟ ابھی بھی ہمارے مخالفین کہتے یہ ہونہیں سکتا، ہم نے جب درخت لگائے تو باہر کی این جی او سے آڈٹ کروایا ، اس نے ہماری بلین ٹری سونامی کو سپورٹ کیا۔