توانائی کی قیمتوں میں اضافہ سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ باعث تشویش ہے ‘نصراللہ مغل

بجلی ،پٹرولیم مصنوعات و گیس کی قیمتوں کاتیز شرح سے بڑھنا پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشت کیلئے زہر قاتل ہے ‘،ٹائون شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن

بدھ 20 اکتوبر 2021 13:31

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اکتوبر2021ء) سینئر صنعتکار ایگزیکٹو ممبرلاہور چیمبرز آف کامرس و انڈسٹریز نصراللہ مغل نے کہا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے مہنگائی میں مزید ہوشربا اضافہ باعث تشویش ہے ،بجلی ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے معیشت جمود کا شکار ہوجائے گی، صنعت وتجارت کا شعبہ پہلے ہی کرونا وبا اور اسکے بعد کی صورتحال سے بری طرح متاثرہوا، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور اسکو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹائون شپ کے صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوںنے کہاکہ صنعت و تجارت کو ابھی کرونا لاک ڈائون کے اثرات پوری طرح ختم نہیں ہوئے تھے کہ بجلی ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے معیشت پر سکتہ طاری کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلے کی دوڑ سے بالکل ہی باہر ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ بجلی گیس و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تیز شرح سے بڑھنا ترقی پذیر معیشت کیلئے زہر قاتل ہے ۔ نصر اللہ مغل نے کہا کہ صنعت وتجارت کا شعبہ پہلے ہی کرونا وبا اور اسکے بعد کی صورتحال سے بری طرح متاثر رہا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور اسکو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

صنعت و تجارت کو ابھی کرونا لاک ڈائون کے اثرات پوری طرح ختم نہیں ہوئے تھے کہ بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے معیشت پر سکتہ طاری کر دیا ہے۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلے کی دوڑ سے بالکل ہی باہر ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بجلی گیس و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تیز شرح سے بڑھنا ترقی پذیر معیشت کیلئے زہر قاتل ہے ۔

نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ایک سال کیلئے کیا گیا اس کے باوجود فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ہر ماہ پھر اضافہ ہورہا ہے ۔ حکومت فیول ایڈجسمنٹ کا فارمولہ ختم کرے کونکہ صنعتی شعبہ سے اس مد میں بجلی استعمال کے بعد کثیر رقم بجلی کے بلز میں وصول کی جاتی ہے اور صنعتی شعبہ کو اسکا ایڈوانٹیج نہیں ملتا۔ حکومت اس فیول ایڈجسمنٹ کے طریقہ کار کو تبدیل کرے یا اسکو ختم کیا جائے۔ حکومت مالی بحران کے باعث آئی ایم ایف جیسے اداروں سے ان کی شرائط پر قرضے حاصل کرتی ہے جس کے باعث انڈسٹریز اور تاجر برادری پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔