ایف پی سی سی آئی ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس ایجنڈا آئٹمز ٹھکانے لگائے بغیرختم کرنے پرتنقید

ناصر حیات مگوں نے باقی ایجنڈے کو ختم کیے بغیر میٹنگ ختم کردی اورکوئی معاشی مسئلہ زیر بحث نہیں آیا،اراکین یو بی جی

ہفتہ 23 اکتوبر 2021 16:47

ایف پی سی سی آئی ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس ایجنڈا آئٹمز ٹھکانے لگائے بغیرختم ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اکتوبر2021ء) ایف پی سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ایجنڈا آئٹمز کو ٹھکانے لگائے بغیر اچانک ختم کرنے پرفیڈریشن کے ایگزیکٹو کمیٹی ممبران نے اپنی حیرت ، شدید تشویش اور پریشانی کا اظہار کیاہے۔ایف پی سی سی آئی کے ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس کے اچانک اختتام پر انتہائی اہمیت کے حامل ایجنڈا آئٹمزنمٹائے بغیر اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران کی اکثریت نے ایف پی سی سی آئی کے غیر قانونی صدر ناصرحیات مگوںکے غیر پیشہ ورانہ اور غیر اخلاقی رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ناصرحیات مگوں اجلاس کے دور ان مسلسل چیختے رہے اور انکی آواز گھبرائی ہوئی اورمایوسی کا اظہار کر رہی تھی۔اجلاس کا آغاز ای سی اراکین کی جانب سے پاکستان تاجکستان بزنس فورم میں پیش آنے والے حادثے پر ناراضگی سے ہوا۔

(جاری ہے)

تاجکستان میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ہونے والے اجلاس میںایف پی سی سی آئی کی جانب سے بھیجے گئے نمائندے خالد امین اور ایف پی سی سی آئی کے رویے کی مذمت کی گئی جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی اور اسی بناء پر وزارت تجارت نے ایف پی سی سی آئی کو شو کاز نوٹس جاری کیا جس کی وجہ سے پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

اجلاس میں کئی اراکین نے ایف پی سی سی آئی کی کم ہوتی ہوئی مالی حیثیت اور اہم اجلاسوں میں ای سی ممبران کی لاعلمی پرافسوس ظاہر کیا گیا جبکہ ایف پی سی سی آئی ممبران نے ایف پی سی سی آئی ایکسپورٹ ایوارڈ فنکشن کے دعوت نامہ کارڈ نہ ملنے پر اپنا احتجاج درج کرایا جو کہ گزشتہ ماہ منعقد ہوا تھا۔یونائٹیڈ بزنس گروپ کے اراکین نے انتخابی شیڈول پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کے تحت تجارتی اداروں کو صرف 10 دن دیے گئے۔

اپنی نامزدگی جمع کرانے کے لیے تجارتی اداروں کی سہولت کے لیے کاغذات جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ای سی ممبران اور یو بی جی کے ارکان نے مزیدتین دن کی توسیع کی درخواست کی۔اجلاس میںالیکشن کمیشن کے تین ارکان کی تشکیل پر گرما گرم الفاظ کا تبادلہ ہوا۔یو بی جی ممبران نے ناصرحیات مگوں کے تجویز کردہ تین ناموں کی سختی سے مخالفت کی جو غلط استعمال میں ملوث پائے گئے اور اس حوالے سے پچھلے الیکشن 2021 میں بدعنوانی اور ڈی جی ٹی او لیول اور ہائی کورٹ میں الزامات کا سامنا سمیت دیگردستاویزی ثبوت فراہم کیے گئے جن میں کئی ایسوسی ایشنزکے غیرقانونی طور پر ووٹ کاسٹ کراکے انہیں دھوکہ دہی سے نتائج میں شامل کرنا بھی شامل تھا۔

ایف پی سی سی آئی کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل کے خلاف یہ معاملہ آج بھی قانونی چارہ جوئی کے تحت ہے اور ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشناس کی انکوائری کر رہا ہے۔اجلاس میں الیکشن کمیشن کی تشکیل کے لیے یو بی جی کی جانب سے خفیہ رائے شماری کی تجویز کی بی ایم پی نے مخالفت کی اورجب کہ اس ایجنڈے پر بحث جاری تھی کہ ناصر حیات مگوں نے باقی ایجنڈے کو ختم کیے بغیر میٹنگ ختم کردی۔

اس موقع پر ایگزیکٹو کمیٹی اراکین کا کہنا تھاکہ انہوں نے پہلے کبھی ایسی میٹنگ میں شرکت نہیں کی کیونکہ اراکین کی طرف سے کوئی فیصلہ یا قرارداد نہیں دی گئی یا منظور نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی معاشی مسئلہ زیر بحث آیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اجلاس بغیر نوٹس کے 21دن کے لیے بلایا گیا تھا۔یو بی جی ممبران نے بتایا کہ غیر قانونی تجارتی ادارے جن کے لائسنس منسوخ کیے گئے تھے اب بھی ایف پی سی سی آئی کی ویب سائٹ پر دکھائی دے رہے ہیں جو بی ایم پی کے بے ایمانی کی عکاسی کرتا ہے۔