محکمہ زراعت میں بے ضابطگیاں ہیں، معاملات درست کیے جائیں‘ساجد احمد خان بھٹی

کمیٹی نے یہ نہیں دیکھنا رقم چھوٹی ہے یا بڑی یہ تعین کرنا ہے کہ سرکاری رقم/ پیسے کا ضیاع کیوں ہوا‘چیئر مین پبلک اکاونٹس کمیٹی

بدھ 12 جنوری 2022 19:56

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جنوری2022ء) چیئر مین پبلک اکاونٹس کمیٹی ساجد احمد خان بھٹی کی زیرِ قیادت پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا ۔پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں دوسرے روز بھی محکمہ زراعت کے آڈٹ پیروں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین ساجد احمد خان بھٹی نے کہا کہ پنجاب میں زرعی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے محکمہ زراعت ایک اہم ادارہ ہے۔

لیکن محکمہ زراعت کے ذمہ دار افسرانpoor ورکنگ پیپرز تیار کر کے کمیٹی کا ٹائم ضائع کررہے ہیں۔غفلت ،لاپرواہی ، بے ضابطگیوں اور اہداف کووقت پرپورا نہ کرنے کی وجہ سے محکمہ زراعت صوبے کی صحیح معنوں میں خدمت نہیں کر پا رہا ہے۔ کمیٹی نے ایگرکلچر ل یونیورسٹی فیصل آباد کا سپیشل آدٹ کروا کر ایک ماہ میں رپوٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت میں بے ضابطگیاں ہیں، معاملات درست کیے جائیں۔

متعلقہ محکمہ کمیٹی کو درست اعدادو شمارفراہم کرئے۔کمیٹی نے یہ نہیں دیکھنا کہ رقم چھوٹی ہے یا بڑی بلکہ یہ تعین کرنا ہے کہ سرکاری رقم/ پیسے کا ضیاع کیوں ہوا۔ کمیٹی نے محکمہ زراعت میں کروڑوں کی بے ضابطگیوں کی وزیرِ اعلیٰ معائنہ ٹیم سے تحقیقات کرواکر ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں کمیٹی نے متفقہ طور پر محکمہ فنانس کو ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ انکوائری کر کے ایک ماہ میںرپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ۔ اجلاس میں چیئرمین سمیت کمیٹی کے ممبران، اراکین اسمبلی نوابزادہ وسیم خان بادوزئی، جاوید کوثر، غلام علی اضغر لہری، عبدالرحمن خان ، سعید اکبر خان اور احمد علی اولکھ موجود تھے۔
>