بھارت میں متنازع قانون کے تحت شہریت سرٹیفکیٹ کا اجراء شروع

DW ڈی ڈبلیو جمعہ 17 مئی 2024 11:00

بھارت میں متنازع قانون کے تحت شہریت سرٹیفکیٹ کا اجراء شروع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 مئی 2024ء) مرکزی داخلہ سکریٹری اجئے کمار بھلاّ نے نئی دہلی میں ایک پروگرام کے دوران چودہ افراد کو شہریت کے سرٹیفکیٹ سونپے۔ تاہم میڈیا رپورٹوں کے مطابق مجموعی طور پر 300 سے بھی زیادہ افراد کو بھارتی شہریت کے سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ ان چودہ افراد کو چھوڑ کر بقیہ لوگوں کو سرٹیفکیٹ ای میل سے بھیج دیے گئے ہیں۔

بھارت میں متنازعہ ’شہریت ترمیمی ایکٹ‘ کا نفاذ بہت جلد

متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے تحت جن افراد کو سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں ان کے بارے میں حکومت نے تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ دہلی کے آدرش نگر اور مجنوں کا ٹیلہ علاقے میں رہنے والے پاکستان سے آئے ہندو ہیں۔

(جاری ہے)

سن 2014 میں پاکستان کے حیدرآباد سے ایک تیرتھ یاترا پر بھارت آنے والے مادھو بھائی ٹھاکر اور ان کی بیٹی، دو بیٹے اور بہویں ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں سرٹیفکیٹ دیے گئے۔

یہ لوگ آدرش نگر کیمپ میں رہتے ہیں۔ مجنوں کا ٹیلہ علاقے میں رہنے والے سیتل داس کو بھی سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔ وہ سن 2013 میں پاکستان کے سندھ سے بھارت آئے تھے۔

پاکستانی، افغان اور بنگلہ دیشی اقلیتوں کو بھارتی شہریت کی راہ ہموار

پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور بھارتی شہریت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے ہریش کمارنے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا، 'یہ ایسا ہی ہے جیسے دوبارہ جنم لینا۔

‘ انہوں نے کہا کہ 'اگر کسی شخص کے پاس حقوق نہیں ہیں تو پھر کیا فائدہ، اب ہم تعلیم، ملازمتوں میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘

سی اے اے کا متنازع قانون

سی اے اے کے متنازع قانون پر ابتداء سے ہی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے خلاف تفریقی سلوک برتتا ہے۔ اس قانون کے خلاف بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

دنیا بھر کی انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں نے بھی اس قانون کی نکتہ چینی کی تھی۔

سی اے اے قانون دسمبر 2019 میں منظور کیا گیا تھا اور مودی حکومت نے تقریباً دو ماہ قبل اس قانون کو نوٹیفائی کیا۔ اس قانون کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے بھارت آنے والے ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی اورعیسائی مذہب کے ماننے والے ایسے افراد کو بھارتی شہریت دی جائے گی جویکم جنوری 2015 سے پہلے بھارت آئے تھے۔

بھارت میں جاری قومی انتخابات کے درمیان سی اے اے سرٹیفکیٹ کا اجراء دلچسپ ہے۔ دراصل سی اے اے ایک بڑا انتخابی موضوع ہے۔

سی اے اے کا نفاذ 2019 کے پچھلے عام انتخابات سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور میں کیے گئے کلیدی وعدوں میں سے ایک تھا۔ اور اس کا کہنا تھا کہ وبائی امراض کی وجہ سے اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی ہے۔

سرٹیفکیٹ اجراء کے خلاف عدالت سے رجوع

بھارتی ریاست کیرالہ میں کانگریس پارٹی کی اتحادی انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) نے شہریت سرٹیفکیٹ کے اجراء کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ لیگ کے قومی جنرل سکریٹری پی کے کنج علی کٹی نے کہا کہ انتخابات کے دوران حکومت کا یہ اقدام الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

لیگ نے کہا کہ سرٹیفکیٹ کا اجراء مودی حکومت کی طرف سے سی اے اے کے متعلق سپریم کورٹ میں دیے گئے حلف نامے کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

آئی یو ایم ایل نے اس سے قبل سپریم کورٹ میں داخل اپنی عرضی میں سی اے اے کے نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی دلیل میں کہا تھا کہ یہ بھارتی آئین کی شق14 کے خلاف ہے جس کے تحت تمام شہریوں کو برابری کا حق دیا گیا ہے۔

گوکہ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں سی اے اے کا ذکر نہیں کیا ہے لیکن کانگریس کے سینیئر رہنما پی اے چدمبرم نے چند دنوں قبل کہاتھا کہ اپوزیشن انڈیا اتحاد کی حکومت بنتے ہی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں سی اے اے کو منسوخ کردیا جائے گا۔

حکومت کیا کہتی ہے؟

مودی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے ساتھ تفریقی سلوک برتتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک میں ظلم و ستم کا سامنا کرنے والی اقلیتوں کی مدد کے لیے اس قانون کی ضرورت تھی۔ تاکہ "بھارت کی سدا بہار فیاض ثقافت کے مطابق وہ خوشگوار اور خوشحال مستقبل کے لیے بھارتی شہریت حاصل کرسکیں۔"

مودی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ" سی اے اے کسی بھی مظلوم مسلمان کو اپنے مذہب کو برقرار رکھتے ہوئے موجود ہ قوانین کے تحت بھارتی شہریت کے لیے درخواست دینے سے نہیں روکتا۔

"

مرکزی وزیر جنرل وی کے سنگھ نے شہریت سرٹیفکیٹ کے اجراء پر نکتہ چینی کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا،" آپ ایسے لوگوں کو قائل نہیں کرسکتے جو سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ بہت سادہ سا قانون ہے۔ اس کا مقصد پڑوسی ملکوں کے ان اقلیتوں کی مدد کرنا ہے جن کے ساتھ ان کے ملکوں میں اچھا سلوک نہیں کیا جاتا اور وہ اقلیت بن گئے ہیں۔ بھارت انہیں پناہ فراہم کر رہا ہے۔"