وفاق کے پی حکومت کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہی: بیرسٹر سیف

علی امین کے جارحانہ رویہ کا مقصد وفاق کو بتانا ہے کہ صوبہ پاکستان کا حصہ ہے،مشیر اطلاعات کی پریس کانفرنس لاکھ میٹرک ٹن گندم کی ضرورت ہے، 20 کلو آٹے کی1650 روپے تک آگئی ہے ،وزیر خوراک ظاہر شاہ

اتوار 19 مئی 2024 18:30

وفاق کے پی حکومت کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہی: بیرسٹر سیف
~ اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 مئی2024ء) مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وفاق کے پی کے حکومت کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے۔وہ اتوار کے روز وزیر خوراک ظاہر شاہ کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے تھے ،بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وعدہ کرنے کے باوجود کے پی کو چیف سیکرٹری نہیں دیا جارہا ہے، کے پی کے کے ساتھ شامل ہونے سے پہلے فاٹا کو الگ سے فنڈ دیا جاتا تھا، ہمارے ساتھ شامل ہونے کے بعد فاٹا کا فنڈ ختم کر دیا، فاٹا کا بوجھ بھی ہماری حکومت پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے جارحانہ رویہ کا مقصد ہے کہ وفاقی حکومت کو معلوم ہو کہ صوبہ پاکستان کا ہی حصہ ہے، کے پی حکومت کے اقدامات سے مہنگائی میں کمی آ رہے ہے۔وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری کابینہ نے لوکل کسانوں سی6 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کا حکم دیا، پہلے مرحلے میں 3 لاکھ ٹن گندم خرید رہے ہیں،40 کلو گندم کی قیمت 3900 رکھی گئی ہے، ایمپورٹڈ گندم بالکل نہیں خریدیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت لوکل کسانوں سے 17 ہزار میٹرک ٹن خرید چکی ہے، بعض لوگ ہمارے خلاف افواہیں بھی پھیلا رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے وڑن کے مطابق خوشخال کسان خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے، پنجاب حکومت نے پنجاب کے کسانوں کو تنگ کرنے کے لیے 35 لاکھ ٹن گندم باہر سے منگوائی۔ظاہر شاہ نے کہا کہ دنیا میں گندم اور پانی پر ہمیشہ سے جنگیں ہوتی آئی ہیں، پاسکو سے گندم خریدنے پر 5600 روپے من مل رہی ہے ، لوکل کسانوں سے گندم لینے پر 12 ارب روپے کی بچت ہو گی، ہم نے ایک ایپ بنائی ہے جس میں کسان گندم کا اندراج کر سکتے ہیں، ہمیں 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی ضرورت ہے ، لوگوں نے 14 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا اندراج کروایا ہے ،صوبائی وزیر خوراک کا کہنا تھا کہ کے پی میں 20 کلو آٹے کی قیمت 3200 سے 1650 ہو گئی ہے، ہمارے حکومت میں کوئی بھی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزستان واقع پر پورے پاکستان کے طلبہ ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں ، طلبہ واپس لانے کے لیے ہم وفاق کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔