
دنیا بھر میں موجود سمندروں میں ہر 10 منٹ کے اندر کوڑے کرکٹ کا ایک ٹرک پھینکا جاتا ہے
سانس لینے کے دوران بھی پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرات کو انسانی جسم میں داخل ہورہے ہیں . کینڈین ماہرین کی رپورٹ
میاں محمد ندیم
اتوار 26 مئی 2024
13:59

(جاری ہے)
کینیڈین ماہرین کی جانب سے کی جانے والی اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق کے مطابق انسان نہ صرف پلاسٹک ذرات کو بطور غذا نگل رہا ہے بلکہ وہ سانس لینے کے دوران بھی پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرات کو اپنے جسم میں داخل کر رہا ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی ایسی کوئی جگہ نہیں ہیں جہاں پلاسٹک ذرات موجود نہ ہوں، سمندر کی گہرائی سے لے کر ساحل سمندر کی ریت، پانی کی بوتل سے لے کر ڈسپوزایبل کھانے کے پیکٹوں اور راستوں پر پلاسٹک یا اس کے ذرات موجود ہوتے ہیں.
ماہرین نے ماضی میں ہونے والی 26 تحقیقات کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ زیادہ تر انسان مچھلی کھانے، پانی اور بیئر پینے، پلاسٹک مصنوعات میں پیک نمک، چینی اور مصالحہ جات استعمال کرنے کے دوران پلاسٹک کے ذرات اپنے جسم میں داخل کر رہا ہے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پلاسٹک کی مصنوعات سے انتہائی چھوٹے اور نظر نہ آنے والے پلاسٹک کے ذرات پانی، کھانوں، مشروب اور مصالحہ جات میں گھل کر انسان کی غذا میں شامل ہو رہے ہیں علاوہ ازیں بتایا گیا کہ شہروں کی آلودہ ہوا، ساحل سمندر کی ریت اور سمندر میں نہانے کے دوران بھی انسان پلاسٹک ذرات کو سانس کے ذریعے جسم میں داخل کر رہا ہے. ماہرین نے بتایا کہ اصل میں ہر فرد کی جانب سے سالانہ پلاسٹک کے ذرات کھانے کی تعداد 50 ہزار سے دگنی ہوسکتی ہے تاہم اندازے کے مطابق سالانہ بالغ فرد 50 ہزار جب کہ نابالغ فرد 40 ہزار پلاسٹک ذرات نگل رہا ہے. رپورٹ میں بتایا گیا کہ انسان کی جانب سے پلاسٹک کے ذرات کھائے جانے کی تصدیق گزشتہ برس نومبر میں کی جانے والی انسانی فضلے کی ٹیسٹ سے بھی ہوئی، جس میں انسانوں کے فضلے میں پلاسٹک کے ذرات پائے گئے.مزید اہم خبریں
-
عراق میں ٹک ٹاکر کے شوق نے 2 پاکستانی قتل کر ڈالے
-
مریم نواز کشتیوں میں ٹک ٹاک بنانے کی بجائے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کیخلاف کارروائی کریں
-
کئی دہائیوں بعد سیلاب کی اتنی خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا
-
راوی علاقے کو سیلاب سے محفوظ بنانا، سڑکیں، جھیل بیراج بنانا روڈا کی ذمہ داری تھی
-
پارک ویوبنانے کیلئے ہم نے پچھلی اور موجودہ حکومت سے کوئی مدد نہیں لی
-
بڑے بلڈرز اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے حکومتوں میں شامل ہو کر سرکاری زمینوں پر قبضے کرتے ہیں
-
حکومتوں نے دریاؤں کی گزرگاہوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو این اوسی جاری کرکے جرم کیا
-
پارک ویو میں میرے والدین کی قبریں ہیں
-
پارک ویو 2006 میں بنی تھی تب اس کا نام ریور ایج تھا اور اس کے مالکان کوئی اور تھے
-
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اقدامات سے پوری دنیا کے سکھوں کا سر فخر سے بلند ہوگیا
-
موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی، جدید ترین پیشگی وارننگ سسٹم پنجاب میں متعارف کرائیں گے
-
موہلنوال میں معجزہ: ٹرانسجینڈر ڈاکٹر زین خان نے 5 دن کے بچے اور ماں کو سیلاب سے بچا لیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.