Live Updates

پارک ویوبنانے کیلئے ہم نے پچھلی اور موجودہ حکومت سے کوئی مدد نہیں لی

پارک میں کوئی سرکاری رقبہ شامل نہیں، ساری زمین مقامی زمینداروں سے خریدی گئی، جنہوں نے سرکاری زمین خریدی ان کے نام روڈا لسٹ میں ہوں گے، چیئرمین پارک ویو عبدالعلیم خان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 30 اگست 2025 22:05

پارک ویوبنانے کیلئے ہم نے پچھلی اور موجودہ حکومت سے کوئی مدد نہیں لی
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 30 اگست 2025ء ) چیئرمین پارک ویو عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پارک ویوبنانے کیلئے ہم نے پچھلی اور موجودہ حکومت سے کوئی مدد نہیں لی، پارک میں کوئی سرکاری رقبہ شامل نہیں، ساری زمین مقامی زمینداروں سے خریدی گئی، جنہوں نے سرکاری زمین خریدی ان کے نام روڈا لسٹ میں ہوں گے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ میرے اور پارک ویو سے متعلق کافی باتیں ہورہی ہیں ان کا جواب دینا مناسب سمجھتا ہوں، سب سے بتادوں کہ پارک ویو پراجیکٹ ریو ر ایچ کے نام سے تھا، یہ پراجیکٹ 2006میں بنایا ،اس کے مالکان اور تھے انہوں نے 2006میں ریور ایچ کا این اوسی لیا، اور یہ پراجیکٹ چار سال تک انہی مالکان کے پاس رہا، ان کا بینک کے ساتھ لون کا ایشو تھا بینک لون ڈیفالٹ کرنے کے بعد اس کو ری پوزیس کردیا، عدالت سے اس کی ڈگری ہوئی اور بینک اس کو فروخت کیلئے مارکیٹ میں لے آیا۔

(جاری ہے)

میں نے 2010میں پراجیکٹ بینک سے خریدا، جب میں نے خریدا تو میں کسی حکومت میں نہیں تھا بلکہ اپوزیشن میں تھا۔ جب میں نے یہ پراجیکٹ خریدا تو اس کی تمام تر این اوسیزوہ واسا کی ہو، ایل ڈی اے کی ہو، واپڈا،سوئی گیس کی ہو۔ ان کے ساتھ پراجیکٹ خریدا تھا، میں اس کو ریور ایچ نام کو ختم کرکے پارک ویو نام میں تبدیل کیا۔ 2022میں فرق یہ آیا کہ ایک اتھارٹی ایل ڈی اے تھی اس کی منظوری دیتی تھی ، اس میں تبدیلی آگئی اور نئی اتھارٹی ریور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے بنی۔

جس کا نام روڈا رکھا گیا، اس وقت کی حکومت نے اس اتھارٹی کو دو تین مقاصد کیلئے بنایا تھا، اس وقت کے وزیراعظم نے بتایا تھا کہ لاہور شہر کو ایک طرف اور دوسری طرف شیخوپورہ کو سیلاب سے محفوظ بنائیں گے، دریائے راوی ایک خوبصورت 30کلومیٹر لمبی جھیل بنائی جائے گی، اس کے آگے ایک بیراج بنایا جائے گا، اس جھیل کے دونوں اطراف 300فٹ چوڑی سڑک بنائی جائے گی، اس کے ساتھ بند بھی ہوگا۔

اور یہاں انفراسٹرکچر بنایا جائے گا، اس وقت کے وزیراعظم بتایا تھا کہ یہ 20ارب ڈالر کا پراجیکٹ ہے۔ اس سب چیزوں کیلئے روڈا نے سرکاری طور پر لوگوں سے زمین حاصل کی۔ اس میں پارک ویو شامل نہیں ہے۔ جن لوگوں نے وہ زمین خریدی ان کے نام روڈا کی لسٹ میں ہوں گے۔پارک کی زمین روڈا سے نہیں لی گئی۔ پارک میں کوئی سرکاری رقبہ یا علاقہ شامل نہیں ہے، پارک ویو کی تمام تر زمین مقامی زمینداروں سے منہ مانگی قیمت پر خریدی ہے۔

پارک ویو کیلئے ہم نے پچھلی اور موجودہ حکومت سے کوئی مدد نہیں لی۔ روڈا نے کیوں پرائیویٹ ڈویلپرلئے ، کیوں کسانوں کو کم پیسے دیئے گئے اس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ آج کہتے ہیں یہ زمین گرین تھی اس کو براؤن بنا دیا گیا، میں پوچھتا ہوں کیا روڈا زمین کو گرین کرنے کیلئے بنی تھیں؟ اس علاقے میں بجلی گیس سڑکیں، جھیل بیراج اورسیلاب سے محفوظ بنانے کی ذمہ داری روڈا نے لی تھی۔اس کیلئے روڈا نے ہم نے فیس لی ہے، اب تک اربوں روپے روڈا کو دے چکے ہیں لیکن روڈا نے ایک روپے کابھی کام نہیں کیا۔ اس کا جواب روڈا دے گی۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات