یہ راز آج کھلا ہے کہ ہماری قانون سازی آئی ایم ایف کی مرضی سے ہو رہی ہے، مولانا فضل الرحمان

مدارس رجسٹریشن میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت خود ہے، 26ویں آئینی ترمیم دونوں ایوانوں سے اتفاق رائے سے منظور ہوئی، سربراہ جے یو آئی (ف)کا قومی اسمبلی میں خطاب

Faisal Alvi فیصل علوی منگل 17 دسمبر 2024 14:00

یہ راز آج کھلا ہے کہ ہماری قانون سازی آئی ایم ایف کی مرضی سے ہو رہی ہے، ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 17 دسمبر 2024) جمعیت علماءاسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ راز تو آج کھلا ہے کہ ہماری قانون سازی آئی ایم ایف کی مرضی سے ہو رہی ہے، مدارس رجسٹریشن میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت خود ہے،26ویں آئینی ترمیم دونوں ایوانوں سے اتفاق رائے سے منظور ہوئی،،قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف)نے کہا کہ سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں ،دونوں فریق ایک دوسرے کو سمجھاتے ہیں۔

ایوان کی عوامی نمائندگی پر ہمیں تحفظات ضرور ہیں لیکن ساتھ ساتھ پارلیمانی ذمے داریاں بھی یہ ایوان نبھار ہا ہے۔ ہم بھی اسی ایوان کا حصہ ہیں۔ کوشش یہ ہے کہ تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں۔مذاکرات کاعمل ایک ماہ سے زائد عرصہ جاری رہا اورتمام حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں آن بورڈ تھیں۔

(جاری ہے)

دلائل سے سمجھانے کے بعد بالآخر مسئلہ ایک حل پر پہنچتا ہے۔

دینی مدارس کے حوالے سے بل تھا، دینی مدارس بل کے حوالے سے ہسٹری بتانا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ2004 میں مدارس کے حوالے سوالات اٹھائے گئے۔پہلا سوال یہ تھا کہ دینی مدارس کا مالیانی نظام کیا ہے؟ دوسرا سوال تھا کہ مدارس کا نظام تعلیم کیا ہے؟ تیسرا سوال تھا کہ دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے؟۔ان سوالات پر مذاکرات ہونے کے بعد جب حکومت مطمئن ہو گئی تو اس پرقانون سازی ہوئی۔

کہا گیا کہ دینی مدارس محتاط رہیں گے کہ شدت پسندانہ مواد پیش نہ کیا جائے۔ بعد میں کچھ مشکلات آتی رہیں، ہماری خفیہ ایجنسیاں مدارس میں براہ راست جاتی تھیں۔ وہاں ڈرانے، دھمکانے اور پریشان کرنے کا ایک سلسلہ چل رہا تھا جس پر سنجیدہ شکایت اٹھی اور 2010 میں ایک مرتبہ پھر معاہدہ ہوا کہ کسی بھی مدرسے کے حوالے سے کوئی بھی شکایت براہ راست مدرسے میں جاکر نہیں کی جائے گی بلکہ اس تنظیم سے کی جائے گی جس کا اس مدرسے سے الحاق ہے۔

قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران سربراہ جے یو آئی (ف)مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے نزدیک تو معاملات طے تھے لیکن اس کے بعد اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی۔ حکومت نے کہا کہ مدارس سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔ پھر وزرات تعلیم کی بات آئی اور بات چیت ہوتی رہی۔ وہ ایکٹ نہیں بنا لیکن محض معاہدہ تھا۔پھر وزرات تعلیم کی بات آئی اور بات چیت ہوتی رہی لیکن کوئی قانون نہیں بنا صرف ایک معاہدہ ہوا تھا جو تین باتوں پر مشتمل تھا۔

کہا گیا تھا کہ رجسٹرڈ مدارس کی رجسٹریشن برقرار رہے گی اور نئے مدارس کی رجسٹریشن پر حکومت تعاون کرے گی۔ دینی مدارس کے بینک اکاونٹس کھولے جائیں گے اور غیر ملکی طلبا کو 9 سال کا ویزہ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مطابق وزیر قانون نے مسودہ تیار کیا اور ایوان میں لایا گیا۔ اتفاق کے باوجود قانون سازی کے وقت بل میں تبدیلیاں کی گئیں۔

21 اکتوبر کو بل منظور ہوا۔ 28 کو صدر نے اعتراض کیا، سپیکر اور قومی اسمبلی نے اصلاح کر کے بل واپس صدر کو بھیج دیا تھا۔مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ صدر نے بل پر دوبارہ کوئی اعتراض نہیں کیا۔ دوسرے اعتراض کا حق بھی نہیں۔ تمام تنظیمات مدارس کا متفقہ موقف ہے کہ ایکٹ بن چکا ہے۔ سپیکر ایاز صادق نے انٹرویو میں کہا کہ ان کے مطابق یہ ایکٹ بن چکا ہے۔ ایکٹ بن چکا تو گزٹ نوٹیفکیشن کیوں نہیں ہو رہا اس بل کو دوبارہ لاکر ترمیم کرنا غلط نظیر ہو گی۔صدر کا دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے ٹھیک نہیں اب تاویلیں نہیں چلیں گی۔ہم قانون ساز ہیں، آئین کو کھلواڑ نہیں بنانا چاہتے۔ ہم ایوان اور آئین کے استحقاق کی جنگ لڑرہے ہیں۔