دو ہزار بائیس کا ڈیٹا لیک، 2025 میں خفیہ ہجرت : افغانوں کی نئی زندگی کا آغاز

DW ڈی ڈبلیو منگل 15 جولائی 2025 20:20

دو ہزار بائیس کا ڈیٹا لیک، 2025 میں خفیہ ہجرت : افغانوں کی نئی زندگی کا ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 15 جولائی 2025ء) برطانوی حکام کے مطابق خفیہ آبادکاری کی یہ اسکیم ان افراد کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی، جنہوں نے افغانستان میں برطانوی مشن کی معاونت کی تھی اور جن کی جانیں خطرے میں تھیں۔

افغان باشندوں کی برطانیہ خفیہ نقل مکانی کی یہ اسکیم سن 2022 میں ان کی شناخت لیک ہونے کے بعد شروع ہوئی، جس سے طالبان حکومت کی طرف سے ان کی حفاظت کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔

ہم لیک کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

2021ء میں طالبان کے قبضے کے بعد برطانیہ آنے کے لیے درخواست دینے والے تقریباً 19,000افغانوں کی ذاتی معلومات پر مشتمل ڈیٹا سیٹ 2022ء میں غلطی سے جاری کر دیا گیا تھا۔ ڈیٹا سیٹ میں موجود معلومات بعد میں آن لائن شائع کر دی گئی تھیں۔

(جاری ہے)

فیس بک پر ان معلومات کے جاری ہونے کے بعد برطانیہ کی وزارت دفاع کو 2023ء میں اس خلاف ورزی کا علم ہوا۔

برطانیہ کی اس وقت کی قدامت پسند حکومت نے 2024ء میں ایک خفیہ پروگرام ترتیب دیا، جس کی لاگت کا تخمینہ تقریبا 1.14 بلین ڈالر لگایا گیا تھا۔

اس منصوبے کا مقصد اس لیک سےممکنہ طور پر متاثر ہونے والوں افغان باشندوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ یہ سب کچھ ایک ایسا سخت عدالتی حکم کے بعد ممکن ہوا جسے ''سُپرانجنکشن‘‘ کہا جاتا ہے۔

ایسا حکم نامہ یا آرڈر کسی مخصوص منصوبے کو عوامی سطح پر عام کرنے سے روکتا ہے۔

تاہم منگل کو موجودہ لیبر حکومت کی طرف سے اس پروگرام کو عوامی سطح پر عام کرتے ہوئے حکم امتناعی کو ہٹا دیا گیا۔ لندن حکومت نے کہا ہے کہ ایک آزاد جائزے میں اس بات کے بہت کم شواہد ملے ہیں کہ لیک ہونے والے ڈیٹا سے ان تقریباً 20,000 افغانوں کوطالبان حکومت کی طرف سے انتقامی کارروائی کا زیادہ خطرہ لاحق ہو گا۔

ادارت: عاطف بلوچ