سعودی عرب میں انار کی پیداوار 37 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی

جوس، آئس کریم اور کنفیکشنری جیسی پراسیسنگ انڈسٹری میں انہیں استعمال کیا جاتا ہے،رپورٹ

اتوار 17 اگست 2025 14:30

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اگست2025ء)سعودی عرب میں انار کی پیداوار 37 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب میں انار کی پیداوار 37 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی ہے اس سلسلے میں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کا کہنا تھا انار کی کاشت زیادہ تر عسیر، مکہ مکرمہ، تبوک، قصیم اور الباحہ ریجن میں کی جا رہی ہے جبکہ دیگر علاقوں میں اس کی پیداوار کم ہے۔

انار کی مقبول اقسام میں طائفی، حجازی، ونڈرفل اور ایور سویٹ شامل ہیں۔جوس، آئس کریم اور کنفیکشنری جیسی پراسیسنگ انڈسٹری میں انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔وزارت نے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق انار کی پیداوار بڑھانے کے لیے تیکنیکی معاونت، مشاورتی خدمات، فنانس، مارکیٹنگ سہولتوں کی فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر کاشتکاروں کی مدد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

(جاری ہے)

یاد رہے مملکت میں انار کی کاشت کا موسم جولائی سے دسمبرتک ہوتا ہے۔ انار کی مجموعی ضرورت کا 34 فیصد مملکت سے حاصل کیا جارہا ہے۔انار کی کاشت کے لیے مخصوص اراضی کا رقبہ 1587 ہیکٹر ہے۔ انار کا درخت 15 سے 20 سال کی عمر میں پھل دینا شروع کرتا ہے۔انار کو کم پانی والی زمین پربھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔اس کے ایک درخت کی عمر پچاس سال تک ہوتی ہے۔ اس کے بے شمار فوائد ہیں،جسم میں موجود فاضل چربی کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

انسان کی جلد کی حفاظت جبکہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو بھی کم کرنے کیلیے انار انتہائی اہم ہے۔طبی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ انار کا شمار ان پھلوں میں ہوتا ہے جو وٹامنز اورمعدنیات سے بھرے ہیں۔اس میں اینٹی اکسیڈنٹ بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو دل کی شریانوں کیلیے مفید ہوتا ہے جبکہ انار کے چھلکوں کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔