Live Updates

ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے اور این او سی دینے والوں پر مقدمہ ہونا چاہیئے، حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ

کسی ایک جماعت کا نام نہیں لیتے جس نے بھی جرم کیا انہیں سزا بھگتنی ہوگی، عدالت نے جو ناجائز سوسائیٹیوں پر فیصلہ دیا تو توہین عدالت کیلئے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے؛ امیر جماعت اسلامی کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 30 اگست 2025 17:26

ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے اور این او سی دینے والوں پر مقدمہ ہونا ..
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اگست 2025ء ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے اور اس کا این او سی دینے والوں کو مستعفی نہیں بلکہ ان کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیئے، پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر بھارتی جارحیت پر ورلڈ بینک میں جانا چاہیئے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقہ چونگ میں الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے لگائے جانے والے امدادی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب سے لوگ بہت پریشان ہیں، ماضی میں عثمان بزدار کی حکومت ہو یا اس وقت مریم نواز کا دور ہو ان کی طرف سے لوگوں کو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ناجائز این او سیز دیئے گئے، اس لیے جو لوگ سیلاب سے ڈوبے ہیں ان کی ذمہ دار مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی حکومت ہے، ہم ان ناجائز سوسائٹیوں کے رہائشیوں کا مقدمہ لڑیں گے جنہیں تعمیرات کے لیے پیسے دینا ہوں گے۔

(جاری ہے)

امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ کسی ایک جماعت کا نام نہیں لیتے، تاہم جس نے جرم کیا ہے انہیں سزا بھگتنی ہوگی، عدالت نے جو ناجائز سوسائیٹیوں پر فیصلہ دیا تو توہین عدالت کے لیے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، حکومت ایک دوسرے کو زندہ باد اور مردہ باد کہہ کر جمہوری آزادیوں پر قدغن لگا کر کرپشن کرو کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے، تاہم وقت آگیا ہے عوام کو سارے مافیاز کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔

ایک سوال پر حافظ نعیم الرحمان نے جواب دیا کہ موجودہ حکومت کی اگر کوئی کارکردگی ہوتی تو لوگ اس طرح سیلاب میں نہ ڈوبتے، اگر یہ لوگ کرپشن نہ کرتے اور ان کی طرف سے بڑے بلڈرز کو این او سیز نہ دئیے جاتے صورتحال یہ نہ ہوتی جو اس وقت ہے، اس لیے جن حکومتوں نے بھی ایک وفاقی وزیر کو ناجائز ہائوسنگ سوسائٹی کے لیے این او سی دیا ان لوگوں پر مقدمہ بنانا چاہیئے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات