وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت محکمہ صحت کا اہم اجلاس

محکمہ صحت کے ذیلی ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ( آئی ایم یو) کی گذشتہ 6 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں خطیر سرمایہ کاری کر رہی ہے، اسکے نتائج بھی بلا تاخیر عوام تک پہنچنے چاہئیں،علی امین گنڈاپور

جمعہ 29 اگست 2025 20:00

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اگست2025ء)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ صحت کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ صحت کے ذیلی ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ( آئی ایم یو) کی گذشتہ 6 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت احتشام علی، سیکرٹری صحت اور محکمہ صحت کے دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کو آئی ایم یو کے گذشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال اور کارکردگی بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آئی ایم یو اسٹاف نے گذشتہ 6 ماہ کے دوران مراکز صحت کے کل 17743 دورے کیے جس میں پرائمری مراکز صحت کے 14939 جبکہ سیکنڈری مراکز صحت کے 2831 دورے شامل ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق پرائمری مراکز صحت میں میڈیکل آفیسرز کی دستیابی کی شرح 61 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے، اسی طرح پرائمری مراکز صحت میں میڈیکل آفیسرز کی غیر حاضری کی شرح 12 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ چھ مہینوں کے دوران پرائمری مراکز صحت کے غیر حاضر میڈیکل افسران کی تنخواہوں سے 10.5 ملین روپے کی کٹوتی کی گئی، صوبہ بھر میں 1766 غیر حاضر ڈاکٹرز میں سے 1096 سے وضاحت طلب کی گئی ، 12 کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی جبکہ 36 ڈاکٹرز کے خلاف انکوائری شروع کی گئی اور 244 کو وارننگز جاری کی گئی ہیں۔اسی طرح سیکنڈری مراکز صحت میں میڈیکل آفیسرز کی دستیابی کی شرح 83 فیصد سے بڑھ کر 86 فیصد ہو گئی ہے۔

سیکنڈری مراکز صحت کے غیر حاضر میڈیکل آفیسرز سے گذشتہ 6 ماہ کے دوران 6.8 ملین روپے کی ریکوری کی گئی ہے ، صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میںن 1487 غیر حاضر ڈاکٹرز میں سے 719 سے وضاحت طلب کی گئی ہے ، 12 کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی ، 18 کے خلاف انکوائری شروع کی گئی ، 264 ڈاکٹرز کو وارننگز جاری کی گئی ہیں جبکہ 522 کے خلاف دیگر محکمانہ کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔

بریفننگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نو میڈیکل سپرینٹنڈنٹس اور 7 ڈی ایچ اوز کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی بارے بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پرائمری مراکز صحت میں ضروری ادویات کی دستیابی کی شرح 47 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد جبکہ سیکنڈری مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی کی شرح 47 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہو گئی ہے۔

اسی طرح پرائمری مراکز صحت میں ضروری طبی آلات کی دستیابی کی شرح 93 سے بڑھ کر 95 فیصد ہو گئی ہے جبکہ گذشتہ 6 ماہ کے دوران سیکنڈری مراکز صحت میں 60 ضروری طبی آلات کی دستیابی کی شرح 78 فیصد سے بڑھ کر 80 فیصد ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے متعلقہ حکام کو مراکز صحت میں ہمہ وقت سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کو مزید بہتر اور موثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پرائمری اور سیکنڈری دونوں مراکز صحت میں ضروری ادویات کی ہمہ وقت دستیابی یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے درکار تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت سکول میں تعلیم اور اسپتال میں علاج کی فراہمی کے وژن کے تحت کام کر رہی ہے ، جن مراکز صحت میں طبی آلات کی کمی ہے اسے فوری طور پر پورا کیا جائے اور مراکز صحت میں بالخصوص واش رومز کی صفائی ستھرائی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں خطیر سرمایہ کاری کر رہی ہے، اسکے نتائج بھی بلا تاخیر عوام تک پہنچنے چاہئیں۔

متعلقہ عنوان :