Live Updates

بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث پانی تیزی سے قصور کی طرف بڑھ رہا ہے، جسے محفوظ رکھنے کے لیے موجودہ بند میں حفاظتی شگاف ڈالنا ناگزیر ہوگیا۔ عرفان علی کاٹھیا

جمعہ 29 اگست 2025 22:10

بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث پانی تیزی سے قصور کی طرف بڑھ رہا ہے، جسے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ 1955 کے بعد پہلی مرتبہ دریائے ستلج میں اس نوعیت کی صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔ بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث پانی تیزی سے قصور کی طرف بڑھ رہا ہے، جسے محفوظ رکھنے کے لیے موجودہ بند میں حفاظتی شگاف ڈالنا ناگزیر ہوگیا۔ وہ جمعہ کو پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس لاہور میں ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے ہمراہ سیلابی صورتحال پر میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور پنجاب حکومت کے ادارے قصور میں ریلیف و ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ کمشنر، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر تمام افسران فیلڈ میں متحرک ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کے مطابق پانی ہیڈ سلیمانکی کے بعد ہیڈ اسلام کی طرف بڑھے گا اور بہاولپور سے گزرتے ہوئے پنجند تک پہنچنے تک خطرہ برقرار رہے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہونے سے نالہ ڈیک پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ اوکاڑہ اور ساہیوال کو دریائے راوی میں ممکنہ سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ "سدانی" پر 36 گھنٹوں میں پانی پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ قادرآباد میں تاریخی نوعیت کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق منڈی بہاالدین کے 40 سے 45 موضع جات متاثر ہوئے جس کے بعد پانی واپس دریا میں چلا گیا۔

پولیس، پاک فوج اور دیگر فورسز بہترین انداز میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ جھنگ شورکوٹ پر حفاظتی شگاف ڈالنے سے صورتحال میں بہتری آئی جبکہ اردگرد کے علاقوں میں لوگوں کا انخلا جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 28 اموات رپورٹ ہوئی ہیں تاہم ریسکیو عملے نے ہر مقام پر بروقت کارروائی کر کے بڑی تباہی سے بچا لیا۔ ان کے مطابق تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح تیزی سے بلند ہورہی ہے اور ڈان اسٹریم دبا برداشت نہ کرسکے تو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اس موقع پر ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ بریچنگ کے بغیر پانی کی نکاسی ممکن نہیں تھی، جس کے لیے بھاری مشینری بروقت استعمال میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے ذاتی طور پر تمام حالات کا جائزہ لیا ہے اور لائیو اسٹاک، ایریگیشن، ریسکیو 1122 سمیت تمام متعلقہ محکموں نے بہترین کام کیا ہے۔ریلیف کمشنر نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی چیلنجنگ ہے لیکن حکومت تمام وسائل بدلتے حالات کے مطابق بروئے کار لا رہی ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ متاثرہ علاقوں سے انخلا کو یقینی بنایا جائے گا اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے میڈیا اور سماجی اداروں سے اپیل کی کہ بدلتی ہوئی صورتحال میں عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کریں تاکہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات