تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال ،مربوط بنایا ،کمزوریوں کو فوری طور پر دور کیا جائے ،سینیٹر مولانا عبدالواسع

ہفتہ 30 اگست 2025 21:30

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اگست2025ء)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلس عاملہ، پارلیمانی گروپ اور تمام اضلاع کے نمائندوں کا ایک اہم اور غیر معمولی اجلاس صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی زیر صدارت پشین میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی مجلس عاملہ کے اراکین، ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز، اضلاع کے امراء و نظماء اور نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس میں تمام اضلاع کی تنظیمی و سیاسی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں۔ ان رپورٹس پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا گیا کہ تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال اور مربوط بنایا جائے اور کمزوریوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ جمعیت اپنی دینی و عوامی ذمہ داریوں کو مزید بہتر طریقے سے ادا کر سکے۔

(جاری ہے)

شرکاء نے مختلف اضلاع کے مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی اور فیصلہ کیا کہ ان مسائل کے حل کے لیے متعلقہ فورمز پر مؤثر انداز میں آواز بلند کی جائے گی۔

اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی پر بھی غور کیا گیا اور اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ عوامی توقعات کے مطابق خدمات فراہم نہیں کی جا رہیں۔اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ نمائندگان نے کہا کہ ایک طرف جمعیت علماء اسلام کے کارکنان کو دہشت گردانہ حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، تو دوسری جانب حکومت کی جانب سے کارکنان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جو کسی طور قابل فہم نہیں۔

اجلاس نے اس طرز عمل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اپنے کارکنان اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔اجلاس میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت چھبیسویں آئینی ترمیم کے برخلاف مدارس کے امور میں غیر ضروری رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

اجلاس نے اس طرز عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واضح کیا کہ مدارس دینیہ اسلامی تہذیب و تمدن کا بنیادی ستون اور ملتِ اسلامیہ کا عظیم سرمایہ ہیں، ان کے خلاف کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔تنظیم کے آئندہ لائحہ عمل پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی۔ اکابر علماء اور نمائندگان کی آراء کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ ان تجاویز کو صوبائی مجلس عمومی کے کل ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا، تاکہ اجتماعی بصیرت کے ساتھ مزید فیصلہ کن اقدامات کیے جا سکیں۔

واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلس عمومی کا اجلاس کل پشین میں منعقد ہوگا جس میں صوبے بھر سے نمائندگان شریک ہوں گے۔ یہ اجلاس صوبے کی دینی و سیاسی صورتحال کے حوالے سے اہم اور رہنما نوعیت کے فیصلے کرے گا۔