پنجاب لیبر ڈیپارٹمنٹ نے کم ازکم اجرت کے نفاذ کیلئے بڑے پیمانے پر مہم کا آغاز کردیا

کسی بھی آجر کواجازت نہیں کہ وہ مزدوروں کو کم اجرت دے یا ان کی سیفٹی پر سمجھوتہ کرے، افسران کو خلاف ورزی پر فوری کارروائی کے احکامات دیے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر (لاہور ساوتھ) ندیم اختر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 30 اکتوبر 2025 22:59

لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 30 اکتوبر 2025ء) پنجاب لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر میں کم از کم اجرت کے نفاذ اور پنجاب آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2019 (OSH Act) کی اہم دفعات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر (لاہور ساوتھ) ندیم اختر کے مطابق، محکمۂ محنت کی ٹیمیں مختلف فیکٹریوں، ورکشاپس اور دیگر مقاماتِ کار پر اچانک معائنے کر رہی ہیں جہاں مزدور دستی کام انجام دیتے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مزدوروں کو مناسب اجرت دی جائے اور انہیں ایک محفوظ اور صحت مند ماحول میں کام کرنے کا موقع ملے۔  جیسا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر محنت فیصل ایوب کھوکھر کی ہدایات میں زور دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ندیم اختر نے کہا کہ یہ مہم وزیراعلیٰ کے اس وژن کی عملی تعبیر ہے جس کے تحت محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ اور بہتر کام کے حالات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’’ کسی بھی آجر کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ مزدوروں کو کم اجرت دے یا ان کی حفاظت پر سمجھوتہ کرے۔ ‘‘  ان کے مطابق نفاذِ قانون کے افسران کو سخت نگرانی اور خلاف ورزی پر فوری کارروائی کے احکامات دیے گئے ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2025 سے ستمبر 2025 تک مہم کے دوران 1330 فیکٹریوں کا معائنہ کیا گیا۔

ان میں سے 707 فیکٹریوں میں مزدور قوانین پر عملدرآمد پایا گیا، جن میں کم از کم اجرت کی ادائیگی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں، جبکہ 623 فیکٹریوں کے خلاف مختلف خلاف ورزیوں، مثلاً کم از کم اجرت کی عدم ادائیگی، حفاظتی معیار کی کمی، اور مزدوروں کے لیے حفاظتی سامان کی عدم فراہمی پر مقدمات درج کیے گئے۔
ڈائریکٹر نے بتایا کہ OSH ایکٹ کے تحت آجر پر لازم ہے کہ وہ کام کی جگہ کو محفوظ بنائے، مناسب ہواداری، حفاظتی لباس، اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کو یقینی بنائے۔

اس کے علاوہ حادثات کے اندراج اور مزدوروں کی تربیت بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت لاہور سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میں معائنے جاری رکھے گا جب تک مکمل عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ عوامی آگاہی مہمات اور آجر تنظیموں کے ساتھ تعاون کے ذریعے رضاکارانہ طور پر قانون پر عملدرآمد کو فروغ دینے کا بھی منصوبہ ہے۔
محکمہ کے افسران کے مطابق، یہ مہم حکومت کے اس عزم کی عکاس ہے جو صوبے کے محنت کش طبقے کی عزت اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔