حیدرآباد میں مرحوم شاہنواز خان جونیجو کی یاد میں روایتی میلہ ، گھوڑوں کی دوڑ، ملاکھڑا اور کبڈی نے لوک رنگ بکھیر دیے

بدھ 17 دسمبر 2025 17:04

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 دسمبر2025ء) سندھ کی دھرتی ایک بار پھر لوک رنگوں سے مہک اٹھی جہاں سندھ کی نامور کلاسیکل شخصیت اور معروف سیاستدان مرحوم شاہنواز خان جونیجو کی یاد میں منعقد ہونے والا سالانہ روایتی میلہ مکمل ثقافتی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ میلے کے چوتھے روز سندھ کی قدیم روایات کی خوبصورت جھلک پیش کرنے والے ملاکھڑا، کبڈی اور ثقافتی گھوڑوں کی دوڑ کے شاندار مقابلے منعقد ہوئے، جنہوں نے شائقین کو دیر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔

ملک کے مختلف علاقوں سے آئے نامور پہلوانوں اور کھلاڑیوں نے اپنی قوت، مہارت اور جواں مردی کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس پر تماشائیوں نے تالیاں بجا کر ان کا حوصلہ بڑھایا۔ میلے کے میدان میں اجرک کی خوشبو، سندھی ٹوپیوں کی رونق اور لوک دھنوں کی گونج نے سندھ کی صدیوں پرانی ثقافت کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔

(جاری ہے)

میلے کے دوران لائیو اسٹاک کے فروغ کے لیے اعلیٰ نسل کی بکریوں اور بھینسوں کی نمائش بھی منعقد کی گئی جبکہ روایتی لباس، دستکاری، اجرک، سندھی ٹوپی اور ثقافتی اسٹالز نے میلے کو لوک ورثے کا دلکش نمونہ بنا دیا۔

لوک موسیقی کی تھاپ پر جھومتے شرکاء اور عوامی جوش و خروش نے میلے کو ایک یادگار ثقافتی منظر میں بدل دیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میلے کے آرگنائزر اور سابق رکنِ قومی اسمبلی محمد خان جونیجو نے کہا کہ سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کی وارث دھرتی ہے اور ہماری ثقافت ہماری پہچان ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو پیغام دیا کہ وہ غیر ضروری اور منفی رجحانات سے دور رہ کر اپنی روایات اور ثقافتی اقدار سے جڑیں کیونکہ یہی اقدار ان کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مرحوم شاہنواز خان جونیجو کی یاد میں یہ میلہ دراصل سندھ کی ثقافت کو زندہ رکھنے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی ایک عملی کوشش ہے۔ اس موقع پر تعلقہ چیئرمین غلام مرتضیٰ جونیجو، محمد خان بجورو اور دیگر معززین و شرکاء نے کہا کہ ایسے روایتی میلوں کے انعقاد سے نہ صرف مرحوم شاہنواز خان جونیجو کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے بلکہ سندھ کے لوک ورثے، روایتی کھیلوں اور ثقافت کو نئی نسل تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا ہوتا ہے۔