برطانیہ میں ہر آٹھ میں سے ایک نوجوان نے نکوٹین پاچ استعمال کیے، سروے

زیادہ تر نوجوان یہ پائوچز دوستوں سے حاصل کرتے ہیں یا دکانوں سے خریدتے ہیں،رپورٹ

پیر 22 دسمبر 2025 20:30

ْلندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 دسمبر2025ء) برطانیہ میں 14 سے 17 سال کی عمر کے ہر آٹھ میں سے ایک نوجوان نے نکوٹین پاچز استعمال کیے ہیں جس کے بعد صحت کے ماہرین نے ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ممکنہ لت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈینس کیمبل کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ نکوٹین پاچز چھوٹے ٹی بیگز جیسے ہوتے ہیں جنہیں منہ کے اندر رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ اکثر مختلف ذائقوں میں دستیاب ہوتے ہیں اور نکوٹین کے اخراج کے ذریعے نشہ فراہم کرتے ہیں۔ ان پائوچز کو عام طور پر سنس بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ پاچز سگریٹ نوشی کی طرح کینسر کے خطرے میں اضافہ نہیں کرتے تاہم اس بات پر شدید خدشات موجود ہیں کہ ان کے استعمال سے نکوٹین کی لت پڑ سکتی ہے جبکہ منہ اور دانتوں سے متعلق مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں 14 سے 17 سال کے 500 نوجوانوں پر کیے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا کہ 13 فیصد نوجوان نکوٹین پائوچز استعمال کر چکے ہیں جبکہ ان میں سے 30 فیصد نے بتایا کہ وہ ہفتے میں کم از کم ایک بار ان کا استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ تر نوجوان یہ پائوچز دوستوں سے حاصل کرتے ہیں یا دکانوں سے خریدتے ہیں جہاں ان کی فروخت پر عمر کی کوئی قانونی پابندی عائد نہیں۔

یہ سروے ڈیلٹا پولنے فیوچر ہیلتھ کنسلٹنسی کے لیے کیا جس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دس میں سے سات نوجوان حکومت کی جانب سے نکوٹین پاچز کے خلاف مجوزہ کریک ڈان کی حمایت کرتے ہیں۔اس کے علاوہ پیکجنگ میں تبدیلی، ذائقوں کے محدود استعمال اور نکوٹین کی مقدار کم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں تاکہ یہ مصنوعات بچوں اور نوجوانوں کے لیے کم پرکشش بن سکیں۔

متعلقہ عنوان :