ساہیوال ڈویژن میں لہسن کی کاشت کو فروغ دے کر زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے،شاہد عمران

اتوار 4 جنوری 2026 14:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 جنوری2026ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی علاقائی کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ اگر حکومت ساہیوال ڈویژن میں لہسن کی کاشت کو فروغ دے تو چین سے لہسن کی درآمد پر خرچ ہونے والے 52 ملین ڈالر (تقریبا 14.5 ارب روپے) کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہو سکتی ہے۔

اتوار کو لاہور میں ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے، جس کی قیادت رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ کے چوہدری نذیر احمد آرائیں کر رہے تھے،شاہد عمران نے کہا کہ حکومت اس مقصد کے لیے ساہیوال ڈویژن کی چند منتخب یونین کونسلز پر توجہ مرکوز کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ آلو کی کاشت کے لیے مشہور اور لہسن کی پیداوار کے لیے بھی انتہائی موزوں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کسانوں کو اعلی معیار کے بیج اور زرعی مداخل کی فراہمی کے لیے بلا سود قرضے دیئے جائیں، جن کی مالیت فی ایکڑ ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے تک اور ہر سال تبدیل ہو سکتی ہے۔ شاہد عمران نے بتایا کہ چین دنیا میں لہسن کی پیداوار اور برآمد والا سب سے بڑا ملک ہے جہاں سالانہ پیداوار دو کروڑ ٹن سے زائد اور فی ایکڑ پیداوار پاکستان کے مقابلے میں تقریبا ڈھائی گنا زیادہ ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ لہسن کی جدید کاشت کے تربیت یافتہ گریجویٹس کو ابتدائی دو سے تین سال کے لیے منتخب یونین کونسلز میں تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ کسانوں کی رہنمائی کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منتخب یونین کونسلز میں لہسن کی ویلیو ایڈیشن کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی یونٹس قائم کیے جائیں۔ لہسن پائوڈر، پیسٹ، فلیکس اور تیل جیسی مصنوعات کے لیے کم سرمائے سے پلانٹس لگائے جا سکتے ہیں، جو اپنی توانائی کی ضروریات بڑی حد تک کم لاگت شمسی توانائی کے نظام سے پوری کر سکتے ہیں۔