الیکشن کمیشن نے این اے-185 ڈیرہ غازی خان ضمنی انتخاب کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج کر دی

جمعرات 22 جنوری 2026 21:49

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 جنوری2026ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ این اے-185 ڈیرہ غازی خان-II کے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار دوست محمد خان کھوسہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں متعلقہ الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔سردار دوست محمد خان کھوسہ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 9 کے تحت درخواست دائر کی تھی جس میں 23 نومبر 2025 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ عملے اور مخالف امیدوار محمود قادر خان پر دھاندلی، پولنگ سٹیشنز کی غیر قانونی تبدیلی اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے تھے ۔

درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن معطل کر کے انہیں کامیاب قرار دیا جائے ۔

(جاری ہے)

درخواست گزار (سردار دوست محمد کھوسہ) کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ آفیسر نے پولنگ سکیم میں غیر قانونی تبدیلیاں کیں اور پولنگ عملے کی تعیناتی میں قواعد کی خلاف ورزی کی ۔ انہوں نے ثبوت کے طور پر بیلٹ پیپرز کی کتابیں، کاؤنٹر فائلز اور ویڈیو شواہد بھی پیش کئے ۔

مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدوارمحمد قادر خان کے وکیل بیرسٹر تیمور اسلم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہے اور نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، لہذا اب یہ معاملہ صرف الیکشن ٹربیونل ہی دیکھ سکتا ہے ۔ انہوں نے ان شواہد کو بعد از وقت سوچ و بچار کا نتیجہ قرار دیا ۔ریٹرننگ آفیسر نے اپنی رپورٹ میں تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل شفاف تھا اور امیدواروں کے ایجنٹس کی موجودگی میں نتائج مرتب کئے گئے تھے ۔

چیئرمین الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے لئے تفصیلی شہادتوں، جرح اور تصدیق کی ضرورت ہے جو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں ۔الیکشن کمیشن صرف ان صورتوں میں مداخلت کرتا ہے جہاں دھاندلی کے واضح اور سنگین ثبوت موجود ہوں جن سے پورے حلقے کا نتیجہ متاثر ہوا ہو جبکہ یہاں پیش کئے گئے شواہد (ویڈیوز وغیرہ) کی فرانزک تصدیق درکار ہے ۔

درخواست گزار نے پہلے ہی اس معاملے پر لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ سے رجوع کیا تھا جس کی درخواست نمٹا دی گئی تھی اور انہوں نے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کیا ۔ الیکشن کمیشن نے قرار درخواست گزار کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل فعال ہیں، اس لئے درخواست گزار اپنے تحفظات کے ازالے کے لئے وہاں رجوع کر سکتے ہیں ۔