سبزی منڈی میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص جگہ پر قبضہ کرکے دکانیں بنانے کا انکشاف

پیر 2 فروری 2026 22:58

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2026ء) سانحہ گل پلازہ کے بعد جہاں کراچی کی متعدد مارکیٹس و شاپنگ سینٹرز سمیت عوامی مقامات پر آگ بجھانے کے انتظامات کے حوالے سے سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،وہیں یہ سنگین انکشاف بھی ہوا ہے کہ سپر ہائیوے پر قائم سبزی منڈی میں ماسٹر لے آؤٹ پلان میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص جگہ پر قبضہ کرکے دکانیں بنا دی گئی ہیں،جس کے بعد آتشزدگی کے کسی بھی ناگہانی واقعہ کی صورت میں سبزی منڈی اور ہزاروں قیمتی جانیں دا پر لگ گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 14فروری2005کو اس وقت کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں سبزی منڈی کے منظور کردہ ماسٹر لے آٹ پلان میں فائر اسٹیشن کیلئے 4800اسکوائر فیٹ کی جگہ مختص کی گئی تھی،فائر اسٹیشن کیلئے جگہ مختص کرنے کا مقصد سبزی منڈی میں آتشزدگی کے کسی بھی ناگہانی واقعہ کی صورت میں فوری ریلیف فراہم کرنا تھا،تا کہ سبزی منڈی میں قیمتی املاک اور کسی بھی جانی نقصان سے محفوظ رہا جاسکے۔

(جاری ہے)

نعمت اللہ خان کے دور میں ہی ایمر جنسی کیلئے سبزی منڈی میں ہمہ وقت ایک فائر بریگیڈ کی گاڑی بھی موجود رہتی تھی،تاہم مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ عدم دلچسپی، عدم تعاون اور سہولیات فراہم نہ کرنے کے باعث یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔سبزی منڈی کا مجموعی رقبہ 94ایکڑ سے زائد ہے،جہاں ماسٹر لے آٹ پلان کے مطابق 4135دکانوں کی جگہ نکالی گئی تھیں،تاہم سبزی منڈی میں ماسٹر لے آٹ پلان کے دھجیاں اڑا دی گئیں اور اس وقت سبزی منڈی میں 6500سے زائد دکانیں موجود ہیں،اپریل 2007کو مارکیٹ کمیٹی نے سبزی منڈی کا نظر ثانی ماسٹر لے آٹ پلان جاری کیا تھا جو کہ مسترد کردیا گیا تھا۔

سبزی منڈی میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص 4800اسکوائر فیٹ کی جگہ پر مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے بلاک اے ایف ون بناکر وہاں دکانیں نکال دی گئی ہیں اور اس عمل کے ذریعے سبزی منڈی،یہاں کام کرنے والے کاروباریوں اور آنے والے خریداروں کی زندگیوں کو دا پر لگا دیا گیا ہے۔سبزی منڈی میں یومیہ ہزاروں افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے جبکہ یہاں کام کرنے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے،سبزی منڈی میں بڑی مقدار میں لکڑی اور بھوسہ موجود ہونے کے باعث آتشزدگی کے کسی بھی واقعہ کی صورت میں بھاری مالی و جانی نقصان کا خدشہ ہے،حال ہی میں سبزی منڈی کے سبزی سیکشن میں بجلی کے کنڈوں کے باعث آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا،تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا مالی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔

سانحہ گل پلازہ کے بعد چیف سیکریٹری کی ہدایت پر شہر بھر کی تمام سرکاری عمارتوں،جیلوں،بس ٹرمینلز اور دیگر عوامی مقامات پر فائر سیفٹی آڈٹ کو یقینی بنانے کیلئے اسسٹنٹ کمشنرز کی 140ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،تاہم اس تمام عمل میں سبزی منڈی کو نظر انداز کیا گیا ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے اور جہاں ماسٹر لے آٹ پلان سے فائر اسٹیشن کو ہی غائب کردیا گیا ہے۔

سبزی منڈی کے تاجروں نے اس ضمن میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ماسٹر لے آٹ پلان میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص جگہ پر قبضہ کا نوٹس لیا جائے،فائر اسٹیشن کی جگہ پر دکانیں بنا کر سبزی منڈی میں کاروبار کرنے والوں اور خریداروں کی زندگیاں دا پر لگانے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے اور بلاک اے ایف ون میں فوری طور پر دکانوں کی جگہ فائر اسٹیشن تعمیر کیا جائے تا کہ آتشزدگی کے کسی بھی ناگہانی واقعہ کی صورت میں تاجروں کی جان و مال اور عام افراد کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔