پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے افطار ڈنر پر طلبہ پر پولیس تشدد ،گرفتاریاں قابل مذمت

جمعہ 6 مارچ 2026 15:38

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مارچ2026ء) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے افطار ڈنر کے موقع پر طلبہ پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی اکھاڑا بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے پولیس کے ساتھ مل کر پرامن افطار ڈنر کو ناکام بنانے کی کوشش کی اور طلبہ پر لاٹھی چارج کیا، وہ نہایت افسوسناک اور شرمناک اقدام ہے۔

محمد جاوید قصوری نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق 37 طلبہ کو گرفتار کیا گیا اور انہیں تھانے منتقل کرنے کے بعد بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم نوجوان اس قوم کا مستقبل ہیں اور ان کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک کسی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ ایک نظریاتی اور تعلیمی تنظیم ہے جو جامعات اور کالجوں میں مثبت، تعلیمی اور اسلامی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ جمعیت کے پلیٹ فارم سے طلبہ میں اخلاقی اقدار، نظم و ضبط اور خدمت خلق کا جذبہ بیدار کیا جاتا ہے، مگر افسوس کہ حکومت کی جانب سے اس طرح کی مثبت سرگرمیوں کو بھی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ گرفتار طلبہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں اور ذمہ دار انتظامی افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور آئندہ کسی طالب علم کے ساتھ ایسی زیادتی نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر طلبہ کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی کوشش کی گئی تو جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کو پرامن اور تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے تاکہ نوجوان یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیم اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔