ایف بی آر کا پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع

اتوار 15 مارچ 2026 18:04

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 مارچ2026ء) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے خیبر ٹوبیکو کمپنی کے پلانٹ کو ڈی سیل کرنے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر دی اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہائی کورٹ نے قبل از وقت مداخلت کرتے ہوئے قانونی کارروائی کو متاثر کیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے وکیل حافظ احسان احمد کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت متبادل اور مؤثر قانونی فورم موجود تھا، جہاں کمپنی اپنے تحفظات پیش کر سکتی تھی۔

ایف بی آر کے مطابق 12 دسمبر 2025 کو مجاز عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد ایف بی آر کی ٹیم نے نوشہرہ روڈ مردان میں واقع خیبر ٹوبیکو کمپنی سے متعلق مقامات پر کارروائی کی۔

(جاری ہے)

اس دوران سواتی مردان روڈ پر واقع پانچ گوداموں سے تقریباً 27 لاکھ 50 ہزار کلو گرام غیر تیار شدہ تمباکو برآمد ہوا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گودام کے مجاز منیجر سے تمباکو کے ذخیرے کے بارے میں ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی سے متعلق دستاویزات طلب کی گئیں مگر وہ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔

ایف بی آر کے مطابق اس صورتحال میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ تمباکو بغیر ڈیوٹی ادا کیے ذخیرہ کیا گیا تھا اور اسے جی ایل ٹی یونٹ کی آڑ میں منتقل کیا گیا۔ایف بی آر نے عدالت کو بتایا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر متعلقہ افسر نے فیڈرل ایکسائز رولز 2005 کے رول 28 اے(6) کے تحت ’’ریزن ٹو بیلیو‘‘قائم کرتے ہوئے کمپنی کے جی ایل ٹی یونٹ اور سگریٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کو بطور احتیاطی اور ریگولیٹری اقدام سیل کر دیا تھا۔

بعد ازاں کمپنی کو فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کر کے باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کی گئی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 18 دسمبر 2025 کے فیصلے میں سیلنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یونٹس کو ڈی سیل کرنے کا حکم دیا، تاہم ایف بی آر کے مطابق یہ معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا اور اس کا حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی فورم پر ہونا تھا۔

ایف بی آر نے اپنی اپیل میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت قائم کردہ قانونی طریقہ کار اور محکمے کے نفاذی اختیارات کو متاثر کرتا ہے اور اس سے محصولات کے تحفظ کے نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔درخواست میں وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ایف بی آر کو قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔