Live Updates

آئی ایم ایف نے امریکہ ایران جنگ کے باعث مہنگائی میں اضافے سمیت سنگین خطرات سے خبردار کردیا

تیل درآمد کرنیوالے ممالک کو توانائی و خوراک کی بڑھتی قیمتیں اور سخت مالیاتی حالات جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہوگا، رپورٹ

جمعہ 1 مئی 2026 20:05

آئی ایم ایف نے امریکہ ایران جنگ کے باعث مہنگائی میں اضافے سمیت سنگین ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 مئی2026ء) آئی ایم ایف نے نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران جنگ خطے کی معاشی ترقی کو نمایاں طور پر سست کر دے گی ،پاکستان سمیت تیل درآمد کرنیوالے ممالک کو توانائی و خوراک کی بڑھتی قیمتوں، ترسیلات زر میں ممکنہ کمی اور سخت مالیاتی حالات جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہوگا۔پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندہ ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)میں منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کیا اور آئی ایم ایف کی اپریل 2026ء کی علاقائی اقتصادی جائزہ رپورٹ بھی پیش کی۔

ڈاکٹرماہیر بینیجی نے بتایا کہ 28ء فروری کو شروع ہونے والی جنگ نے ایک شدید اور ہمہ جہتی معاشی جھٹکا دیا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی منڈیاں، تجارتی راستے اور مالیاتی حالات متاثر ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان حالات کے باعث عالمی ترسیل کے نظام، خوراک اور کھاد کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس سے خطے میں معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور مزید تنزلی کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ تنازع پہلے سے موجود معاشی کمزوریوں کو مزید بڑھا رہا ہے۔

ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے زور دیا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے اور کمزور طبقات کے تحفظ کیلئے سبسڈیز کے بجائے ہدفی اور عارضی اقدامات کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی مجموعی طور پر درست سمت میں جاری ہے اور واضح کیا کہ پاکستان کے لیے پالیسی ترجیحات میں محتاط مالیاتی حکمت عملی، اعداد و شمار کی بنیاد پر سخت مانیٹری پالیسی اور ساختی اصلاحات کا تسلسل شامل ہونا چاہیے۔

اس موقع پر انہوں نے معیشت کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے کیلئے تجارتی راستوں میں تنوع، اہم بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، علاقائی تعاون کے فروغ اور نجی شعبے کی قیادت میں جامع ترقی یقینی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ناگزیر ہے تاکہ پاکستان تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں استحکام برقرار رکھتے ہوئے موثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔

قبل ازیں آ ئی ایم ایف کے نمائندے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سربراہ اکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ اس نشست کا مقصد بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورت حال اور اس کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا جائزہ لینا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اگلی قسط فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کے جائزے سے مشروط ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات، خصوصا کیپیسٹی پیمنٹس سے متعلق مذاکرات اور قابل تجدید توانائی کے استعمال میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پالیسی سطح پر بروقت اور ہدفی اقدامات ناگزیر ہیں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات