ایف پی سی سی آئی کا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کا خیرمقدم

ہفتہ 28 مارچ 2026 16:35

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 مارچ2026ء) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے حکومتِ پاکستان اور انٹرنیشنل مانٹیری فنڈ کے درمیان طے پانے والے نئے اسٹاف لیول ایگریمنٹ (SLA) کا خیرمقدم کیا ہی؛جس کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری کی جائے گی۔عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ یہ معاہدہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے دوسرے جائزے کی کامیاب تکمیل کے بعد طے پایا ہی؛ جوکہ ملکی معیشت میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ EFF کے تحت 1 ارب ڈالر اور RSF کے تحت 210 ملین ڈالر کا اجرا معیشت کو درپیش دباؤ میں کمی لانے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کے مطابق یہ معاہدہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرے گا؛ مارکیٹ کا اعتماد بحال کرے گا اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں اور دوطرفہ شراکت داروں کے لیے مثبت پیغام ثابت گا۔

(جاری ہے)

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صرف استحکام ہی حتمی مقصد نہیں ہونا چاہیی؛ بلکہ حکومت کو فوری طور پر صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ان بنیادی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا کہ جو نجی شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ اگرچہ کاروباری برادری آئی ایم ایف پروگرام کے تسلسل پر اطمینان کا اظہار کرتی ہی؛ لیکن موجودہ حالات میں کاروبار، صنعت اور تجارت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جس کی وجہ بلند کاروباری لاگت اور عالمی سطح پر غیر یقینی کی صورتحال ہے۔

اس لیے ٹریڈ اور انڈسٹری کے لیے مراعات دیئے جانا ضروری ہے۔انہوں نے زور دیا کہ آئی ایم ایف معاہدے سے حاصل ہونے والے معاشی سہارے سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کو فوری طور پر اصلاحات پر توجہ دینی چاہیی؛ خصوصاً پالیسی ریٹ میں نمایاں اور فوری کمی سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد کو بڑھا سکتی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا چاہیے اور ایسے شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانا چاہیے کہ جو ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ اضافی ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر صنعتوں کی لیکویڈیٹی یا پیسے کی فراہمی کو متاثر کرتی ہی؛ جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات، بدعنوانی کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور مالی شفافیت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔سنیئر نائب صدرایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے عالمی خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر فریٹ اخراجات میں اضافہ پاکستان کی تجارت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

ان کے مطابق ان حالات میں ملکی معاشی پالیسیاں کاروبار کرنے کے لیے سہارا بننی چاہئیں؛ نہ کہ وہ بوجھ میں اضافے کا سبب بنیں ۔ ایف پی سی سی آئی نے حکومت کے ساتھ اپنے تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ ایسی پالیسیوں کی تیاری میں معاونت کے لیے تیار ہے کہ جو ملک میں پائیدار صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور کاروباری ماحول میں بہتری کو فروغ دیں۔