خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس،ارکان کا فنانس کمیٹی کی کارکردگی اور امن وامان کی خراب صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار

پیر 27 اپریل 2026 22:26

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 اپریل2026ء) خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد اراکین نے مختلف عوامی مسائل پر کھل کر اظہار خیال کیا۔اجلاس کے آغاز پر فنانس کمیٹی کے چیئرمین اور اے این پی کے رکن ارباب عثمان نے نکتہ اعتراض پر فنانس کمیٹی کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فنانس جیسے اہم شعبے پر پورا صوبہ چلتا ہے، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود کمیٹی کے معاملات میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ کئی بار ہدایات جاری کی گئیں لیکن آج تک کمیٹی کے بزنس کی صورتحال واضح نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک متعلقہ ادارے جواب جمع نہیں کراتے، کمیٹی اجلاس نہ بلایا جائے، کیونکہ بجٹ قریب ہے اور اخراجات و ریونیو سے لاعلمی تشویشناک ہے۔

(جاری ہے)

ڈپٹی سپیکر نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے مکمل رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے تاکہ متعلقہ وزیر کارروائی کر سکیں۔

اپر دیر سے رکن انور خان نے اپنے علاقے میں موبائل سگنلز کی شدید کمی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک محنت مزدوری کرنے والے افراد اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر پاتے، جس سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لیاقت خان نے بھی اس مسئلے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث آن لائن تعلیم سے محروم ہیں۔ ڈپٹی سپیکر نے بتایا کہ اس مسئلے کے حل کیلئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس کا اجلاس جلد ہوگا۔

ایم پی اے شیر علی خان نے حسن خیل سب ڈویژن میں امن و امان کی خراب صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں اور رہزنی کی وارداتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جس سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔عبدالغنی نے قبائلی علاقوں خصوصاً تیراہ اور باڑہ کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شدت پسند عناصر دوبارہ متحرک ہو رہے ہیں، جبکہ آئی ڈی پیز کی واپسی بھی تاخیر کا شکار ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات پشاور تک خراب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکاخیل قوم پرامن اور محب وطن ہے لیکن مسلسل ڈرون حملوں اور بدامنی کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔پیر مصور نے صوبے میں بجلی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود شدید لوڈشیڈنگ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ میں تین پاور ہاؤسز ہونے کے باوجود بجلی کی بندش سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے واپڈا حکام کو طلب کر کے جواب دہ بنانے اور مقامی افراد کے خلاف درج مقدمات کے مراسلے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔