این اے 251 کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری، خوشحال خان کاکڑ کامیاب قرار

منگل 28 اپریل 2026 23:08

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اپریل2026ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے این اے 251 شیرانی، ژوب، قلعہ سیف اللہ کے انتخابی تنازع میں مختصر فیصلے کے بعد رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، جس میں خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار قرار دینے کی وجوہات تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔تین رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس شکیل احمد نے کی جبکہ جسٹس شاہد وحید اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی بینچ کا حصہ تھے، نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے فارم 45 کے نتائج کو فارم 48 میں تبدیل کرنا غیر قانونی اور انتخابی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ فارم 45 پولنگ سٹیشن پر ووٹوں کی گنتی کے بعد تیار کیا جانے والا بنیادی اور مستند ریکارڈ ہے جبکہ فارم 48 صرف مجموعی نتیجہ مرتب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے ریٹرننگ آفیسر کو اس میں کسی قسم کی ردوبدل کا اختیار حاصل نہیں۔

(جاری ہے)

تفصیلی فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے واضح ہوا کہ متعدد پولنگ سٹیشنز پر خوشحال خان کاکڑ کے ووٹ کم کر کے ان کے مدمقابل سید سمیع اللہ کے ووٹ بڑھائے گئے جس سے انتخابی نتیجہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا۔

عدالت نے اس عمل کو محض بے ضابطگی نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ میں مداخلت قرار دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ فارم 45، الیکشن کمیشن کے ریکارڈ اور دوبارہ گنتی کے نتائج ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں جبکہ تضاد صرف فارم 48 میں پایا گیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نتائج میں تبدیلی دانستہ طور پر کی گئی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر فارم 45 کے نتائج کو برقرار رکھا جاتا تو خوشحال خان کاکڑ واضح اکثریت سے کامیاب ہوتے، اس لیے عدالت نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا جاری کردہ نوٹیفکیشن بھی منسوخ کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ انتخابی عمل میں شفافیت اور دیانتداری آئینی تقاضا ہے اور کسی بھی مرحلے پر نتائج میں ردوبدل جمہوری نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار قرار دیتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کرے جبکہ متعلقہ انتخابی عملے کے کردار پر بھی قانونی کارروائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔