غیر منصفانہ مسابقت کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے، ڈاکٹر جواد اویس آغا

ہفتہ 2 مئی 2026 23:22

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 مئی2026ء) چیئرمین نیشنل ٹیرف کمیشن ڈاکٹر جواد اویس آغا نے کہا ہے کہ نیشنل ٹیرف کمیشن صنعتکاروں اور تاجر برادری کے لیے مکمل طور پر اوپن ہے ،ہر کیس کو ذاتی طور پر دیکھ کر میرٹ پر فوری فیصلے کیے جائیں گے تاکہ مقامی صنعت کو غیر منصفانہ بین الاقوامی مسابقت سے بچایا جا سکے۔وہ ہفتہ کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے معزز مہمان کا خیرمقدم کیا جبکہ نائب صدر خرم لودھی، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران رانا نثار، عامر علی، سید حسن رضا، احتشام الحق، رانا شعبان اختر اور احد امین ملک سمیت مختلف ایسوسی ایشنز کے نمائندگان اور کاروباری برادری کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ویژن کے تحت کمیشن نے آئوٹ ریچ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے ،اب صنعتکاروں کو خطوط کے بجائے براہِ راست رابطے کے ذریعے فوری ریلیف فراہم کیا جائے گا،جبکہ اینٹی ڈمپنگ، کائونٹر ویلنگ اور سیف گارڈ اقدامات کے ذریعے ڈومیسٹک انڈسٹری کا بھرپور تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن ملکی صنعت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہا اور کاروباری برادری اس کی کاوشوں کو سراہتی ہے۔ انہوں نے نیشنل ٹیرف پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر اسے موثر انداز میں نافذ کیا جائے تو یہ ملکی صنعت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ را میٹریلز، انٹرمیڈیٹ اور فِنشڈ گڈز کے درمیان واضح فرق نہ ہونے سے ٹیرف ڈھانچے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے جسے فوری درست کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سیکٹر وائز اپروچ، ڈیوٹی اسٹرکچر میں توازن اور ایسے خام مال پر زیرو ڈیوٹی کی تجویز دی جو مقامی طور پر دستیاب نہیں، تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور صنعت مسابقتی بن سکے۔ انہوں نے ایف ٹی ایز اور پی ٹی ایز پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مقامی صنعت کو نقصان پہنچا،اس لیے آئندہ معاہدوں میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت ناگزیر ہے۔

صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے مزید کہا کہ پاکستان میں مقامی صنعت کو فروغ دینے، درآمدی انحصار کم کرنے اور ویلیو ایڈیشن بڑھانے کے لیے ایک جامع اور متوازن ٹیرف نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی خام مال کو مناسب تحفظ فراہم اور پی سی ٹی کوڈز میں موجود ابہام دور کیا جائے تاکہ خام مال اور فِنشڈ گڈز کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔