دہشتگردی کیخلاف فوج کے سا تھ کھڑے ہیں، استحکام پاکستان کانفرنس

علما ء اہل سنت نے ہمیشہ ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ میں نمایاں خدمات انجام دیں سیا سی و عسکری قیا دت کی عالمی امن خدمات کو خراج تحسین پیش کر تے ہیں، مقررین کے خطابات، اعلامیہ

اتوار 3 مئی 2026 16:25

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیر اہتمام عظیم الشان استحکام پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی، قائدین میں صدر تحفظ ناموس رسالت محاذ صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشبندی، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی،شاداب رضا نقشبندی،ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری،سید لخت حسنین شاہ ،بریگیڈیئر (ر) محمد نواز،صاحبزادہ پیر محمد حسان حسیب الرحمن،مظہر محمود بھٹی ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد علما و مشائخ اہل سنت نے ہمیشہ ریاست پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔

کانفرنس کے شرکا نے ملک میں دہشت گردی، طالبانائزیشن، داعش اور فتنہ الخوارج جیسی ملک دشمن سرگرمیوں کے سدباب کے لیے علما اہل سنت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فتاوی، کانفرنسز اور ریلیوں کے ذریعے ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

(جاری ہے)

اعلامیہ میں وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی خدمات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان اقدامات سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔

۔قراردادوں میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت ﷺ اور دیگر مقدسات سے متعلق زیر التوا مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، جبکہ ایسے افراد کو فیصلے تک ہر قسم کی تحریر و تقریر سے روکا جائے۔اجتماع میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ کا مکمل نفاذ عمل میں لایا جائے اور ریاستی نظام کو قرآن و سنت کے مطابق استوار کیا جائے۔آخر میں مدارس دینیہ کے حوالے سے مطالبہ کیا گیا کہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان اور سہل بنایا جائے، مالی معاملات میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور چرمہائے قربانی کے لیے این او سی کی سخت شرائط میں نرمی کی جائے۔