بحری جہاز میں ہنٹا وائرس سے مزید دو افراد متاثر، 150 تاحال محصور

منگل 5 مئی 2026 21:57

ایمسٹرڈیم(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) جنوبی بحر اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز جہاز میں پھوٹنے والی ہنٹا وائرس وبا سے تین افراد کی ہلاکت کے بعد دو مزید مسافروں میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں جبکہ 150 کے قریب افراد اب بھی بحری جہاز میں پھنسے ہوئے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق طبی ماہرین مغربی افریقہ کے قریب موجود جہاز سے متاثرہ افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بحری جہازمیں موجود زیادہ تر لوگ برطانوی، امریکی اور ہسپانوی ہیں۔نیدرلینڈز کا نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ جو وبا کو کنٹرول کرنے میں مدد دے رہا ہے ، کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جن دو افراد میں علامات ظاہر ہوئیں ان میں سے ایک میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی بحری جہاز پر سوار ہلاک ہونے والی ڈچ خاتون کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آیا تھا۔

طبی اداروں کا کہنا ہے مرنے والے دوسرے دو افراد کے بارے میں یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان کی موت بھی اسی وائرس کی وجہ سے ہوئی۔ہنٹا وائرس سے سانس لینے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ ہنٹا وائرس کا تعلق چوہوں سے ہے اور وہیں پر پھیلتا ہے جہاں چوہے رہتے ہوں اور ان کی گندگی کے ذرات خشک ہونے پر ہوا میں شامل ہو جائے تو سانس کے ساتھ جسم کے اندر جا سکتے ہیں۔تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وائرس انسانوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا۔وائرس کا شکار ہونے کے بعد علاج کے لیے کوئی خاص دوائیں موجود نہیں اس لیے توجہ ایسی چیزوں پر دی جاتی ہے جو بیماری کو بڑھنے سے روک سکیں جن میں مریضوں کو وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا بھی شامل ہے۔