مدارس بندش و منرل اینڈ مائنز ایکٹ جیسے اقدامات کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے،مولانا صالح محمد حقانی

بدھ 6 مئی 2026 19:36

دالبندین(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مئی2026ء) دالبندین میں جمعیت علماء اسلام کی کال پر آج مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔ مدارس کی بندش، منرل اینڈ مائنز ایکٹ اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس کے قتل کے خلاف احتجاجاً شہر کے تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔ ہڑتال کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں اور سڑکوں پر سناٹے کا راج ہے۔

جے یو آئی کے ضلعی قائدین خود بازاروں میں گشت کر کے ہڑتال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دالبندین،چاغیسمیت آج ہر طرف ہو کا عالم ہے۔ جمعیت علماء اسلام مرکزی کال پر شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔ مدارس کی بندش، منرل اینڈ مائنز ایکٹ اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے سفاکانہ قتل کے خلاف تاجر برادری اور عوام سراپا احتجاج ہیں۔

(جاری ہے)

ہڑتال کے باعث تمام تجارتی مراکز، دکانیں اور مالیاتی ادارے مکمل طور پر بند ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔

شہریوں کو روزمرہ کی ضروریات زندگی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جے یو آئی کے ضلعی قائدین مولانا صالح محمد حقانی، سردار نجیب خان سنجرانی، مولوی علی محمد بڑیچ اور حافظ محمد اسماعیل گورگیج و دیگر نے کارکنوں کی ہمراہ دالبندین بازار میں احتجاجی ریلی نکالی جو مختلف شاہراہوں پر گشت کرتے ہوئے شہید حمید چوک پر جمع ہوکر حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی بندش اور منرل اینڈ مائنز ایکٹ جیسے اقدامات کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے مولانا محمد ادریس کی شہادت کو عظیم قومی نقصان قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری کیفر کردار تک پہنچایا جائے، ورنہ احتجاج کا یہ سلسلہ مزید وسیع کیا جائے گا۔