وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے متنازع سیکشن 7E کو کالعدم قرار دے دیا

جمعرات 7 مئی 2026 15:38

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 مئی2026ء) وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے متنازع سیکشن 7E کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے، جبکہ اس شق کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ریونیو ڈویژن کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیاں، نوٹسز اور اقدامات کو بھی غیر مؤثر اور غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے مختصر فیصلہ سنانے کے بعد تحریری حکم نامہ بھی جاری کیا۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سیکشن 7E کو فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں شامل کیا گیا تھا، تاہم ملک بھر کی مختلف ہائی کورٹس میں اس شق کے حوالے سے متضاد فیصلے سامنے آئے۔

(جاری ہے)

پشاور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے سیکشن 7E کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کی ذیلی شق 2 کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے بعض فیصلوں میں اس شق کو برقرار رکھا تھا۔ٹیکس دہندگان کی جانب سے دائر اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ شق دراصل جائیداد پر مفروضہ آمدنی کے نام پر ٹیکس ہے جو اصل آمدنی کے بغیر عائد کیا گیا، لہٰذا یہ آئینی اختیار سے تجاوز ہے۔

ریونیو ڈویژن اور ایف بی آر کی جانب سے سینئر وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سیکشن 7E پارلیمنٹ کے آئینی اختیار کے تحت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا اور مفروضہ آمدنی کا تصور ٹیکس قانون میں تسلیم شدہ اصول ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ یہ شق آئین کے آرٹیکل 77 اور متعلقہ قانون سازی کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ سیکشن 7E اپنی اصل اور نوعیت کے اعتبار سے جائیداد کی ملکیت پر ٹیکس ہے، نہ کہ حقیقی آمدنی پر، اس لیے اسے آئین کے تحت برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ سیکشن 7E آئین سے متصادم، غیر مجاز اور کالعدم ہے، لہٰذا اس کے تحت ایف بی آر اور دیگر اداروں کی جانب سے جاری تمام نوٹسز، کارروائیاں اور اقدامات بھی ختم سمجھے جائیں گے۔عدالت نے واضح کیا کہ مختلف ہائی کورٹس کے متضاد فیصلوں سے پیدا ہونے والا قانونی ابہام ختم کر دیا گیا ہے، اور معاملہ اب نمٹا دیا جاتا ہے۔ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔