مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائیدادوں کی مسماری اور ضبطی کا سلسلہ مسلسل جاری

بھارتی حکام نے تین دکانیں مسمار جبکہ بانڈی پورہ میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت اراضی ضبط کرلی

جمعہ 15 مئی 2026 14:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 مئی2026ء) غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں کشمیریوں کی جائیدادوں کی مسماری اور ضبطی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں بھارتی حکام کی ظالمانہ کارروائیوں پرسخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع کولگام میں بھارتی حکام نے تین دکانیں مسمار جبکہ بانڈی پورہ میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت اراضی ضبط کرلی ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں جائیدادوں کی مسماری اور ضبطی کو کشمیری عوام کے خلاف معاشی دبائو اور خوف و ہراس پھیلانے کی پالیسی قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مقامی آبادی کو معاشی طور پر کمزور کرنا اور اختلافی آوازوں کو دبانا ہے۔

(جاری ہے)

سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت زمینوں اور املاک پر قبضوں کے ذریعے اپنے آبادکاری کے منصوبے کو وسعت دے رہی ہے۔

ناقدین کے مطابق جائیدادوں کی مسماری اور ضبطی کی حالیہ مہم کشمیریوں کے سیاسی اور سماجی عزم کو کمزور کرنے کی ایک اور ناکام کوشش ہے۔اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام کو ان کی زمین، روزگار اور معاشی تحفظ سے محروم کرنے کے قابض انتظامیہ کے اقدامات خطے میں ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس صورتحال پر انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی سخت تشویش ظاہر کی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائیدادوں کی ضبطی اور مسماری کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔